خطبات محمود (جلد 29) — Page 35
$1948 35 خطبات محمود اور ساتھ ہی یہ بھی عقیدہ رکھتا تھا کہ اگر وہ مجھے نہیں کھلائے گا تو مجھے یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ اے خدا! پہلے میرے لیے کھانے کا انتظام فرما اُس کے بعد میں اس کام کو سنبھالوں گا۔پھر جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی بارش مجھ پر کی تو میں نے یہ نتیجہ نہ نکالا کہ یہ میرے کسی کام کا بدلہ مجھے دیا جا رہا ہے بلکہ میں نے کہا اے خدا! یہ سب تیرے فضل و کرم سے ہو رہا ہے۔تو نے ہی مجھے کام کرنے کی توفیق دی ہے اور تو نے ہی ہر قسم کے رزق سے مالا مال کیا ہے۔تو نے مجھے سب کچھ دیا ہے اور کسی کا ممنونِ احسان بنا کر نہیں دیا۔یوں تو اپنی جماعت سے دنیا کے ہر کام کے متعلق میں جو جو کہنا چاہوں کہہ سکتا ہوں مگر مالی معاملہ میں میں نے اپنے اختیار سے کبھی کام نہیں لیا۔اور میں اس میں اس قدر حساس ہوں کہ ہر وقت آزاد کمیشن کے سامنے اپنا حساب رکھنے کو تیار ہوں۔پس یہ سوال کہ اگر ہمارے خاندان کے نوجوان خدمت دین کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟ میرے نزدیک اس سے زیادہ مشرکانہ اور اس سے زیادہ بے ایمانی کا سوال اور کوئی نہیں ہوسکتا۔اگر وہ واقعی خدا تعالیٰ کا کام کریں گے تو خدا تعالیٰ نَعُوذُ باللہ اتنا غدار نہیں کہ وہ اُنھیں بھوکا ماردے گا۔کیا خدا تعالیٰ نے آدم سے لے کر اب تک کسی کے ساتھ دھوکا بازی کی ہے جو وہ ان کے ساتھ کرے گا؟ پھر یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کے دادے ہمیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیا کرتے تھے اب اُن کے احمدی ہونے پر ہم اُن کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دین کی خدمت کرو اور وہ کرتے ہیں لیکن خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان دکانداریوں اور دوسرے دنیوی کاموں کے پیچھے پھر رہا ہے۔میں کہتا ہوں جانے دو اس تو کل کو بھی کہ خدا تعالیٰ خدمت دین کرنے سے اُنہیں بھو کا نہیں مارے گا۔اور اگر انہوں نے خدا کی راہ میں مرنا ہے تو اس سے زیادہ سعادت اور خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے۔پھر اس اعلیٰ قسم کے تو کل کو بھی جانے دو۔اس سے ذرا ادنی قسم کے تو کل کو لے لو۔ہمارے محکموں میں بعض ایسے کارکنان بھی ہیں جنہیں ہیں ہیں ، تمہیں تھیں اور چالیس چالیس روپے مل رہے ہیں اور وہ خوشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔جس روٹی سے اُن کا پیٹ بھر سکتا ہے ان کا کیوں نہیں بھر سکتا؟ جس کپڑے سے وہ اپنے تن کو ڈھانک سکتے ہیں اُس کپڑے سے ان کا تن کیوں نہیں ڈھانکا جا سکتا؟ جن مکانوں میں وہ رہ سکتے ہیں اُن مکانوں میں کیوں نہیں رہ سکتے ؟ کیا ہیں ہیں اور تمیں تمہیں روپیہ میں گزارہ کرنے والوں پر خدا تعالیٰ کا حق زیادہ ہے