خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 423

$1948 423 خطبات محمود کر دیئے اس لیے وہ دُہرے ثواب کا مستحق ہوگا۔اس کے بعد میں مختصراً جماعت کو اور جماعت احمد یہ لاہور کو مقدم طور پر اور پھر دوسری جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کچھ عرصہ سے مختلف جماعتوں کو حفاظت مرکز کے چندے کی طرف توجہ نہیں رہی حالانکہ گومعنوی رنگ میں اسلام اور وہ صداقتیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اُن کا پھیلا نا ہی ہمارا مقصود اور اصل کام ہے لیکن ہر چیز معنوی نہیں ہوا کرتی۔بعض ظاہری چیزیں بھی ہوا کرتی ہیں جن کا ادب اور احترام بعض اوقات معنوی چیزوں سے بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ عدم احترام دنیا کے لیے ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ مکہ مکرمہ ہو یا مدینہ منورہ قادیان ہو یا کوئی اور شہر یہ سب آخر مٹی کی چیزیں ہیں اور جن کے لیے خدا تعالیٰ نے رسول بھیجے ہیں وہ اور امور ہیں یعنی معنوی توحید کا اقرار کروانا، ملائکہ کا اقرار کروانا، تقدیر کا اقرار کروانا، قبولیت دعا کا اقرار کروانا، خدا تعالیٰ کی دوسری صفات اور الہام پر ایمان اور یقین پیدا کرنا اور پھر ان کی اتباع کروانا، پھر مرنے کے بعد کی زندگی اور خدا تعالیٰ سے وصال کا اقرار کروانا۔یہ وہ چیزیں ہیں جن کے لیے خدا تعالیٰ کے رسول آتے ہیں۔اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اگر صحیح طور پر مانی جائیں اور ان پر پورے طور پر عمل کیا جائے تو یہ انسان کے روحانی مقام کو بلند کرتے کرتے اتنا بلند کر دیتی ہیں کہ ایک وقت میں اسے دوسرے انسان یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ وہ انسان نہیں رہا خدا بن گیا ہے۔اصل چیز تو وہ ہے لیکن جہاں تک ظاہر کا سوال ہے دوسری ظاہری چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔توحید ہے وہ اب بے شک مٹ گئی ہے لیکن اس کے مٹ جانے سے اسلام پر اتناسخت اعتراض نہیں پڑتا، مسلمانوں سے نمازیں جاتی رہی ہیں لیکن عیسائی اور ہندو اس پر زیادہ اعتراض نہیں کرتے ، حج اور زکوۃ ہے ان میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے مگر اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔لیکن کچھ ظاہری علامتیں ایسی ہیں جن میں اگر چھوٹا سا بھی رخنہ پڑ جائے تو دشمن شور مچانے لگ جاتا ہے۔مثلاً خدانخواستہ اگر کوئی ملکہ کی بے حرمتی کر بیٹھے یامدینہ کی بے حرمتی کر بیٹھے تو باوجود اس کے کہ توحید کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہر مسلمان کا دل بیٹھ جائے گا اور دشمن شور مچانے لگ جائے گا کہ اب اسلام کہاں رہ گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ توحید کی قدر تو اُسے نظر نہیں آتی، رسالت کی قدر تو اُسے نظر نہیں آتی ، کلام الہی کی خوبیاں تو اُسے نظر نہیں آتیں۔ظاہر ہی ہے جوا سے نظر آتا ہے اور وہ اس پر فوراً اعتراض کر دیتا ہے۔