خطبات محمود (جلد 29) — Page 422
$1948 422 39 خطبات محمود ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم سامان مہیا نہ کریں اور کام آپ ہی آپ ہوتا جائے (فرمودہ 10 دسمبر 1948ء بمقام لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج بجلی کے خراب ہونے کی وجہ سے لاؤڈ سپیکر بھی بند ہے اور میرا گلا بھی خراب ہے۔پچھلے ہفتہ سے مجھے کھانسی کی بہت زیادہ تکلیف ہو رہی ہے اور بعض اوقات تو دمہ کی سی تکلیف ہو جاتی ہے۔اس لیے میں آج بلند آواز سے نہیں بول سکتا مگر خدا تعالیٰ نے انسان کے ثواب کے لیے کئی ذرائع پیدا کر دیئے ہیں۔جہاں انسان کے ثواب کے لیے ایک یہ ذریعہ ہے کہ ایسی جگہوں پر آکر باتیں کہی جائیں اور لوگ انہیں آکر سنیں وہاں ایک یہ بھی ذریعہ ہے کہ انسان ایسی جگہوں پر آئے اور بیٹھ جائے۔خواہ آواز آتی ہو یا نہ آتی ہو۔کیونکہ ثواب بہر حال قربانیوں پر ہی ملتا ہے۔اصل چیز تو نیت ہے جو شخص اس نیت سے ایسی جگہ پر گیا کہ وہاں جا کر دینی باتیں سنے تو خواہ وہ باتیں نہ سن سکے وہ ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے اس نے سن لیا۔اور جب ثواب قربانی پر ہی ملتا ہے تو ایک شخص جس نے سن لیا اس کو تو اس کے سننے کا ثواب ملے گا اور وہ شخص جس نے نہیں سنا اس نے چونکہ اپنے جذبات بھی قربانی