خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 350

$1948 350 خطبات محمود باقی زمین رہ جاتی ہے۔اگر اسے پانچ سو روپیہ کنال پر بھی فروخت کیا جائے تو کل قیمت ساڑھے چھ لاکھ بنتی ہے۔مگر کالجوں ، سکولوں، سڑکوں، ہسپتالوں اور دوسرے قومی اداروں پر کم سے کم ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔یہ رقم کون دے گا؟ کیا لائل پور اور سرگودھا کے غیر احمدی چندہ کر کے یہ رقم دیں گے یا پنجاب اور سندھ کے احمدی؟ بہر حال اس رقم کا بیشتر حصہ ربوہ میں بسنے والوں کو ہی دینا پڑے گا۔پس یہ سیدھی سادھی بات ہے رعایت کا سوال ہی نہیں۔یہ کم از کم اخراجات ہیں جن سے شہر بن سکتا ہے۔یا تو شہر کو ویران چھوڑ دیا جائے اور یا اُس کے اخراجات کے لیے روپیہ مہیا کیا جائے۔اب دوسرا اعلان کیا گیا ہے کہ 300 کنال کا ایک ٹکڑا دو سو روپیہ فی کنال کے حساب سے فروخت کیا جائے گا۔وہ لوگ جو مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں ایک سو روپیہ فی کنال کی شرح سے ہی زمین لے کر دے دی جائے وہ یہی کہتے رہیں گے اور زمین ختم ہو جائے گی۔اور پھر جب یہ زمین ختم ہو جائے گی اور زمین کی قیمت بڑھا دی جائے گی تو وہ میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے حضور ! ہماری سفارش کر دی جائے تا ہمیں دو سو روپے فی کنال کی شرح سے ہی زمین دے دی جائے۔وہ ایسا ہی کہتے رہیں گے اور زمین کی قیمت اور زیادہ ہو جائے گی اور قیمت تین سو روپیہ فی کنال کی بجائے پانچ سو روپیہ فی کنال ہو جائے گی کیونکہ ہمارا ارادہ ہے کہ پانچ سو روپیہ فی کنال کی اوسط لائی جائے۔اُس وقت یہ لوگ کہیں گے ہمیں تین سو پر ہی زمین دے دیجیے۔آپ ہماری سفارش کریں۔پھر اگلا اعلان نکلے گا اور وہ پھر آئیں گے حضور ! زمین اب سات سو روپے فی کنال ہوگئی ہے آپ ہماری سفارش کیجیے تا ہمیں پانچ سو روپیہ فی کنال کے حساب سے زمین مل جائے۔پھر اگلا اعلان ہو جائے گا۔مثلاً ہزار روپیہ فی کنال کا اعلان کیا جائے گا تب یہ لوگ آئیں گے اور پچھلی قیمت پر زمین مانگیں گے۔زمین کی قیمت بڑھتی چلی جائے گی۔وہ خریدیں گے نہیں بلکہ ہر دفعہ یہی مطالبہ کرتے رہیں گے ہمیں پچھلی قیمت پر زمین دلائی جائے۔زمین مہنگی ہوتی چلی جائے گی کیونکہ جب ڈاکخانہ بن جائے گا، ریلوے اسٹیشن بن جائے گا، بجلی آ جائے گی اور شہر کی صورت بن جائے گی تو لازما زمین مہنگی ہوگی۔قادیان میں کئی لوگوں نے پانچ پانچ ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے بھی زمین خریدی ہے اور بیچی ہے۔یہاں لاہور کے ایک غیر احمدی ایم۔ایل۔اے نے مجھے کہا تھا کہ آپ مجھے زمین دلا دیں۔دہلی کی ایک غیر احمدی عورت نے مجھے کہا تھا کہ ہمیں زمین دی جائے کیونکہ فسادات میں اگر ہمیں گھروں سے نکلنا پڑے تو ہم وہاں آجائیں۔