خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 343

$1948 343 خطبات محمود لوگوں سے توقع کی جائے کہ وہ ایک جامع مسجد میں اکٹھے ہو جائیں۔مثلاً لا ہور شہر ہی کئی میل کے حلقے میں پھیلا ہوا ہے اور سارے مرد و عورت ایک جگہ نماز کے لیے قطعی طور پر جمع نہیں ہو سکتے۔اگر تم ان کو جمع کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ ناممکن ہوگا اور نماز کے لیے نہ آنے والوں کا گناہ تم پر ہوگا کیونکہ وہ سینکڑوں لوگ جو نماز کے لیے نہیں آئیں گے وہ یقیناً آتے اگر ان کے لیے انتظام ہوتا۔پس میری رائے تو یہی ہے کہ لاہور شہر میں بھی مختلف مقامات پر جمعہ کی نماز ادا ہونی چاہیے مگر لاہور کے احمدی ہونے میں ابھی کافی دیر ہے۔اس لیے ابھی اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن مسئلہ کی صورت میرے نزدیک یہی ہے کہ بڑے شہروں میں دو دو تین تین جگہ جمعہ ہونا چاہیے تا کہ سب لوگ نماز میں شریک ہو سکیں۔البتہ شریعت نے فتنوں کو روکنے کے لیے بعض پابندیاں ضرور عائد کر دیا ہیں۔مثلاً شریعت کہتی ہے کہ اسی مسجد میں نماز پڑھی جائے جو اپنے حلقہ کی ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض فتنہ پرداز لوگ امام کے خلاف فتنہ انگیزی کر کے بجائے اپنی مسجد کے دوسرے محلہ میں جا کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور چونکہ اس طرح فتنہ پرداز لوگ فتنہ پھیلا سکتے ہیں اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس محلہ میں تم رہتے ہو اسی محلہ کی مسجد میں نمازیں پڑھا کرو۔بہر حال اسلام میں سب چیزیں موجود ہیں اور اس قسم کے خطرات دور کیے جا سکتے ہیں مگر یہ ابھی دور کی باتیں ہیں۔ابھی تو ہمیں ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں نسبتاً آسانی سے ہماری جماعت کے لوگ جمعہ کے لیے اکٹھے ہو سکیں۔میرے نزدیک اس غرض کے لیے فلیمنگ روڈ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔میں ایک دفعہ خاص طور پر اسی غرض کے لیے وہاں گیا تھا اور مجھے یاد ہے کہ اُس وقت وہاں چھ ہزار روپیہ پر کنال زمین ملتی تھی۔اسی طرح اور کئی سڑکیں ہیں جہاں لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔بہر حال کسی سڑک پر زمین خرید کر اور خیمے لگا کر نماز شروع کر دی جائے۔پھر مبلغ کی رہائش کا بھی وہاں انتظام ہو جائے اور ایک لائبریری بھی بنادی جائے۔شہروں میں لائبریریوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے مگر لائبریری اُسی جگہ بن سکتی ہے جہاں لوگ کثرت سے آتے جاتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں لٹریچر کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ بڑی آسانی سے ہر جگہ پہنچ سکتی ہے۔مبلغ کے ذریعہ ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی۔پس اب لٹریچر کی اشاعت پر بھی ہمیں خاص طور پر زور دینا پڑے گا۔جس کا ایک طریق یہ ہے کہ مختلف شہروں میں لائبریریاں قائم کی