خطبات محمود (جلد 29) — Page 339
$1948 339 خطبات محمود لیے صرف ایک مبلغ کافی ہو۔سترہ لاکھ کی آبادی کے لیے کم سے کم چونتیس سو مبلغ چاہیں۔اگر ہم اس سے کم مبلغ رکھتے ہیں تو ہم کبھی بھی صحیح معنوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔پس اگر دوسری مسجد بنے گی تو خود بخود تم میں تبلیغ کو بڑھانے کا احساس پیدا ہو گا۔تم خود کہو گے کہ ایک مبلغ اس مسجد کی آبادی کے لیے چاہیے اور ایک مبلغ اُس مسجد کے لیے چاہیے۔پھر ہر چیز کی ایک چاٹ ہوتی ہے۔کسی کو پان کی چاٹ ہوتی ہے، کسی کو سگار کی چاٹ ہوتی ہے، کسی کو شراب کی چاٹ ہوتی ہے، کسی کو افیون کی چاٹ ہوتی ہے۔جب تمہیں مسجدیں بنانے کی چاٹ پڑ جائے گی تو تم کوشش کرو گے کہ پھر تیسری اور پھر چوتھی مسجد بناؤ اور بناتے ہی چلے جاؤ۔اب تو تم اس ایک مسجد پر اس طرح تسلی پا کر بیٹھ گئے ہو جیسے کہتے ہیں کہ گاؤں کا کوئی شخص ایک دفعہ شہر میں آیا اور وہ تنجن کھا کر واپس گیا تو اس نے اپنے گاؤں کے لوگوں سے اس کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ تم ہمارے گاؤں کے کنویں میں تھوک دو ہم ایک ایک گھونٹ پانی پی کر دیکھ لیں گے کہ متنجن کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔اس طرح یہ مسجد بھائی دروازہ والوں کی ہے۔مگر بھائی دروازہ والے کہتے ہیں یہ ہماری مسجد ہے ، لوہاری دروازہ والے کہتے ہیں یہ ہماری مسجد ہے، انارکلی والے کہتے ہیں یہ ہماری مسجد ہے، مزنگ والے کہتے ہیں یہ ہماری ہے، مال روڈ والے کہتے ہیں یہ ہماری مسجد ہے، میکلوڈ روڈ والے کہتے ہیں یہ ہماری مسجد ہے۔غرض ہر محلہ کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہماری مسجد ہے۔جب اور مسجد بن جائے گی تو طبعی طور پر تمہارے دلوں میں خیال پیدا ہوگا کہ دتی دروازہ والوں کی تو مسجد ہے مگر ہماری مسجد نہیں۔اب تو تم دتی دروازہ کی مسجد کو ہی اپنی مسجد کہ کر اپنا لیتے ہو حالانکہ تمہاری مسجد وہ ہے جس میں تم پانچ وقت نماز پڑھ سکتے ہو۔جس مسجد میں تم پانچ وقت نماز کے لیے نہیں جاسکتے وہ تمہاری مسجد نہیں۔بہر حال جب تم پانچ وقت نماز کے لیے دوسری مسجد میں بھی نہیں جا سکو گے تو تمہیں خیال آئے گا کہ دتی دروازہ والوں کے پاس تو مسجد ہے مگر ہمارے پاس مسجد نہیں اور قدرتی طور پر تمہیں احساس پیدا ہوگا کہ ہم محلہ وار مسجدیں بنائیں۔پھر جب تم محلہ وار مسجدیں بناؤ گے تو چونکہ تم کام کاج میں مشغول ہو گے کوئی تم میں سے ملازمت کر رہا ہوگا ، کوئی تجارت کر رہا ہو گا، کوئی اور کام کر رہا ہوگا اور تم اپنا اکثر وقت مسجد میں نہیں دے سکو گے۔اس لیے تم خود بخود یہ سوال اٹھاؤ گے کہ اس مسجد کو آباد رکھنے کے لیے ہمیں مبلغ دیا جائے۔اس طرح مسجدوں کے پیچھے مبلغ بڑھتے چلے جائیں گے۔اور جب مبلغ بڑھیں گے تو تبلیغ کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔دوسروں کو