خطبات محمود (جلد 29) — Page 338
$1948 338 خطبات محمود شوق پیدا ہو جائے گا اور اس طرح قوم کا معیار بہت بلند ہو جائے گا۔میر صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔میں وعظ کرتا چلا گیا مگر وہ بالکل خاموش رہے اور کوئی حرکت ان کے جسم میں پیدا نہ ہوئی۔آخر دس پندرہ منٹ وعظ کر کے میں خاموش ہو گیا اور میں حیران ہوا کہ میر صاحب کو ہو کیا گیا ہے کہ ایک لفظ بھی اُن کے منہ سے نہیں نکلا۔ہاں نہ ہوں کچھ بھی نہیں کرتے اور خاموش بیٹھے ہیں۔غرض پہلی دفعہ میں جتنا بولنے کا ارادہ رکھتا تھا اُتنا بول چکا تو میں نے مناسب سمجھا کہ دوسری دفعہ پھر اُن کو اس بات کی طرف توجہ دلا دوں۔چنانچہ میں نے نیا پہلو بدلا اور پھر میں نے انہیں تعلیم کی طرف توجہ دلائی ، اس کی ضرورت ان کے ذہن نشین کرائی ، اس کے فوائد بتلائے اور اس کی اہمیت واضح کی اور پھر میں خاموش ہوا یہ دیکھنے کے لیے کہ اب میر صاحب پر کیا اثر ہوا ہے۔مگر میں نے دیکھا کہ وہ برابر اسی طرح خاموش بیٹھے رہے۔تب میں نے تیسری دفعہ انہیں اس طرف توجہ دلائی اور دس بارہ وی منٹ تک بولتا چلا گیا مگر جب میں بات کو ختم کر چکا تو وہ پھر بھی خاموش رہے۔اس پر میں سخت حیران ہوا کہ یہ بات کیا ہے؟ ان کے ساتھ اُن کا ایک سیکرٹری بھی تھا جو ہندو تھا۔جب میں تین دفعہ وعظ کر چکا تو اُس سیکرٹری نے سمجھا کہ اب خاموشی مناسب نہیں چنانچہ وہ کہنے لگا جناب! آپ کو ہمارے میر صاحب کے حالات کا علم نہیں۔آپ نے دوسرے امراء پر قیاس کرتے ہوئے یہ سمجھ لیا ہے کہ جس طرح وہ تعلیم کی طرف توجہ نہیں کرتے اُسی طرح میر صاحب کو بھی توجہ نہیں۔مگر یہ درست نہیں۔ان کو تعلیم کا خاص شوق ہے اور یہ اپنے بچوں کو پڑھانے کا بہت خیال رکھتے ہیں۔چنانچہ ان کا ایک لڑکا چوتھی جماعت تک پڑھا ہوا ہے اور دوسرا لڑکا تیسری جماعت تک پڑھا ہوا ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ این خانه تمام آفتاب است جیسے میر صاحب ہیں ویسے ہی ان کے سیکرٹری صاحب ہیں۔تم سب اس واقعہ پر ہنس پڑے ہو لیکن تم نے کبھی سوچا کہ جیسے اُس سیکرٹری کا جواب تھا ویسا ہی جواب تم تبلیغ کے متعلق دیتے ہو۔تم سے بھی پوچھا جائے کہ لاہور شہر میں تمہارے کتنے مبلغ ہیں؟ تو تم کہتے ہو اس سترہ لاکھ کی آبادی والے شہر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا ایک مبلغ کام کر رہا ہے۔حالانکہ خدا کے فضل سے ایسا نہیں ہوسکتا۔خدا کے قہر سے ایسا بے شک ہوسکتا ہے۔خدا کے فضل سے تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ستر لاکھ کی آبادی کے