خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 323

$1948 323 خطبات محمود چھوٹی مسجد میں بنالے تو مسجد کی طرف لوگوں کو توجہ بھی ہوگی اور پھر ان پر سختی بھی کی جاسکتی ہے۔انہیں یہ خود بخود احساس ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا گھر ویران پڑا ہے۔اسے آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بہر حال جہاں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگلے جمعہ سے ہم اِنشَاء الله نماز مسجد میں ادا کیا کریں گے تا لوگوں کو مسجد کی طرف توجہ پیدا ہو جائے وہاں میں یہ بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ موجودہ مسجد جماعت کی ضروریات کے لحاظ سے ناکافی ہے۔اگر جماعت سے سات آٹھ ہزار روپیہ اکٹھا کر لیا جائے اور اس سے چار کنال کا ٹکٹ خرید لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین اٹھارہ ہزارفٹ ہوگی اور اٹھارہ ہزار فٹ جگہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں تین ہزار آدمی بآسانی نماز پڑھ سکیں گے۔پھر اگر برآمدے کو ملا لیا جائے اور لوگ ذراتنگی کر کے نماز پڑھ لیں تو اتنی جگہ پر پانچ ہزار آدمی بھی آسکیں گے۔اہور کے لیے یہ بھی کوئی بڑی جگہ نہیں۔ایک دن ایسا آئے گا جب جماعت کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ یہ جگہ بھی نا کافی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھاوَ سَعُ مَكَانَک 2 تُو اپنے گھر کو وسیع کر۔لیکن مکین وہ بعد میں لایا۔اُس وقت یہی ہوتا تھا کہ ہم اپنے مکانوں کو وسیع کرتے تھے اور مہمان آنے شروع ہو جاتے تھے اور وہ مکان ان کے لیے ناکافی ہو جاتے تھے۔جب تک باہر محلے نہیں بنے تھے سارے مہمان حلقہ مسجد مبارک کے چھوٹے سے حلقے میں ہی آجاتے تھے۔باہر محلے بنانے کا ہمیں خیال بھی نہیں آتا تھا۔میں تو سمجھتا تھا کہ ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے کون زمینیں خرید کر مکان بنا سکتا ہے لیکن ایک دن مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کا جو پہلا پارہ چھپے وہ ہمارے خاندان کے ہی خرچ سے چھپے تا سارا ثواب ہمارے خاندان کے لیے مخصوص ہو جائے۔میں نے خاندان میں تحریک کر کے کچھ وعدے لیے لیکن اس مقصد کے لیے ضرورت تین چار ہزار روپیہ کی تھی اور میری تحریک پر جو چندہ جمع ہو وہ صرف پانچ چھ سوروپیہ تھا۔باقی روپیہ کے متعلق میں نے یہ سوچا کہ اس کے متعلق کیا کیا جائے۔میں نے اپنی زمینوں کے مختار سے اس کا ذکر کیا اور پوچھا کہ کیا ہماری ایسی کوئی جائیداد ہے جو پک جائے۔انہوں نے کہا کیوں نہیں۔میں نے کہا میری یہ نیت ہے کہ اگر کوئی قطعہ زمین پک جائے تو اس کی قیمت سے قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کا کام شروع کیا جائے تا سارا ثواب ہمارے خاندان کو ملے۔انہوں نے کہا یہ کام تو چند گھنٹوں میں ہو جائے گا؟ مجھے اس کام کا کوئی