خطبات محمود (جلد 29) — Page 275
$1948 275 خطبات محمود کیوں نہیں مان لیتے ، آپ کچھ کام کر لیں۔تو آپ فرمانے لگے والد صاحب تو یو نہی غم کرتے رہتے ہے ہیں۔انہیں میرے مستقبل کا فکر ہے۔میں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔ہم واپس آگئے اور مرزا صاحب ( مرزا غلام مرتضی صاحب) سے آکر ساری بات کہہ دی۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو ٹھیک ہے۔وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔یہ آپ کی ابتدا تھی اور پھر ابھی تو انتہا نہیں ہوئی لیکن جو عارضی انتہا نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپ پر قربان ہونے والا موجودتھا۔آپ خود فرماتے ہیں:۔لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِى 4 ایک وہ زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے دیے جاتے تھے اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں سینکڑوں خاندانوں کو پال رہا ہوں۔آپ کی ابتدا کتنی چھوٹی تھی مگر آپ کی انتہا ایسی ہوتی ہے کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دواڑھائی سو آدمی کھانا کھاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائیداد میں اپنے بھائی کے برابر کے شریک تھے لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھا جاتا ہے اور جو کام نہیں کرتا وہ جائیداد میں شریک نہیں سمجھا جاتا اور یہ دستور ابھی تک چلا آتا ہے۔لوگ عموما کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اُس کا جائیداد میں کیا حصہ ہو سکتا ہے۔آپ کے پاس جب کوئی ملاقاتی آتا اور آپ اپنی بھا وجہ کو کھانے کے لیے کہلا بھیجتے تو وہ آگے سے کہہ دیتی کہ وہ یونہی کھا پی رہا ہے کام کاج تو کوئی کرتا نہیں۔اس پر آپ اپنا کھانا اس مہمان کو کھلا دیتے اور خود فاقہ کر لیتے۔خدا کی قدرت ہے کہ وہی بھا وجہ جو اس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئی۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اس کی ابتدا بڑی نظر نہیں آیا کرتی لیکن اس کی انتہا پر دنیا حیران ہو جاتی ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ جب آپ کو گاؤں کے لوگ بھی نہیں پہچان سکتے تھے کیونکہ آپ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہا کرتے تھے لیکن اب وہ وقت ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ میں آپ کے ماننے والے تھوڑے بہت لوگ موجود ہیں۔پھر آپ کی جماعت ایک جگہ پر ٹھہری ہوئی نہیں بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔جب میں خلیفہ ہوا تو ہمارے خزانہ میں صرف چند آنے کے پیسے تھے اور وہ لوگ جو سلسلہ کے کرتا دھرتا تھے، جو لوگ خزانہ پر قابض تھے، سارے نظام پر قابض تھے