خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 273

خطبات محمود 273 $1948 حسان بن ثابت نے ایک شاعرانہ کلام ہی نہیں کہا بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ تمام عرب نے حسان بن ثابت کے ان شعروں کو اپنے ہی جذبات کا اظہار خیال کہا۔گویا عرب کی آواز حسان بن ثابت کی زبان پر جاری ہو گئی۔تاریخ کہتی ہے کہ ہفتوں تک مدینہ ، مکہ اور دوسرے مسلمان شہروں والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ، بازاروں میں چلتے ہوئے اور اپنے کاروبار کرتے ہوئے یہی شعر پڑھتے تھے كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيَّ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ لیکن ابو جہل جس کی پیدائش پر ہفتوں اونٹ ذبح کر کے لوگوں میں گوشت تقسیم کیا گیا تھا، جس کی پیدائش پر دنوں کی آواز سے مکہ کی فضا گونج اٹھی تھی بدر کی لڑائی میں جب مارا جاتا ہے تو پندرہ پندرہ سال کی عمر کے دو انصاری چھوکرے تھے جنہوں نے اسے زخمی کیا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جنگ کے بعد لوگ جب واپس جا رہے تھے تو میں میدانِ جنگ میں زخمیوں کو دیکھنے کے لیے چلا گیا۔آپ بھی مکہ کے ہی تھے اس لیے ابو جہل آپ کو اچھی طرح جانتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں میدانِ جنگ میں پھر ہی رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ابو جہل زخمی پڑا کراہ رہا ہے۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اب بچتا نظر نہیں آتا۔تکلیف زیادہ بڑھ گئی ہے ( اس کا بیٹا عکرمہ بھی اسے چھوڑ کر بھاگ گیا تھا)۔تم بھی مکہ والے ہو میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ تم مجھے مار دو تا میری تکلیف دور ہو جائے۔لیکن تم جانتے ہو کہ میں عرب کا سردار ہوں اور عرب میں یہ رواج ہے کہ سرداروں کی گردنیں لمبی کر کے کاٹی جاتی ہیں اور یہ مقتول کی سرداری کی علامت ہوتی ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ تم میری گردن لمبی کر کے کاٹنا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی گردن ٹھوڑی سے کاٹ دی اور کہا کہ تیری یہ آخری حسرت بھی پوری نہیں کی جائے گی۔2 خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق یہ بات نہ ہو کیونکہ آپ کی یہ تعلیم تھی کہ دشمن پر بھی رحم کیا جائے لیکن انجام کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ابو جہل کی موت کتنی ذلت کی موت تھی۔جس کی گردن اپنی زندگی میں ہمیشہ اونچی رہا کرتی تھی وفات کے وقت اُس کی گردن نیچے سے کاٹی گئی اور اس کی یہ آخری حسرت بھی پوری نہ ہوئی۔پھر چونکہ کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ میں