خطبات محمود (جلد 29) — Page 16
$1948 16 خطبات محمود اُس کے اندر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔اُس کی زبان تو اقرار کرتی ہے کہ خدا ہے مگر اُس کا دل اقرار نہیں کرتا۔اگر اُس کا دل اقرار کرتا تو خدا کی موجودگی سے جو حالات پیدا ہونے چاہیں اُس کے اندر پیدا و جاتے۔دنیا میں ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہیں جو بظاہر خدا پرستی کا دعوی کرتے ہیں مگر اُن کا ا باطن اُسی طرح دہر یہ ہوتا ہے جیسے اُس کی ہستی کے منکر دہریہ کا۔غرض جہاں تک دنیوی اعمال کا سوال ہے اور جہاں تک رفاہ عامہ کا سوال ہے ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ خدایا مذ ہب پر ایمان لایا جائے۔اور نہ ہی مذہب پر ایمان لانا ان کاموں کا جزو یا بنیاد ہے۔انسان مذہب پر ایمان لائے بغیر بھی ایسے کام کر سکتا ہے اور مذہب پر ایمان لا کر بھی کر سکتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مذہب پر ایمان لا کر یہ کام بہت اچھے ہو سکتے ہیں اور ایمان نہ لانے سے اُتنے اچھے نہیں ہو سکتے۔مگر یہ بات صرف ممکن ہے ضروری نہیں کہ ایسے کام وہی کر سکے جو مذہب پر ایمان رکھتا ہو اور دوسرا کوئی نہ کر سکے۔مگر وہ چیز جو بچے مذہب کو دوسرے مذاہب یا عقائد پر فوقیت بخشتی ہے وہ تعلق باللہ ہے۔ایک انسان کچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر محنتی ہوسکتا ہے، وہ بچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا تاجر بن سکتا ہے، وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا صناع بن سکتا ہے اور وہ بچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر صدقہ و خیرات بھی کر سکتا ہے۔مگر دنیا کا کوئی انسان بچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا۔یہی وہ چیز ہے جو بچے مذہب پر چلنے والے اور نہ چلنے والے میں مَسابِهِ الْاِمْتِيَاز ہے اور جس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص بچے مذہب پر چلتا ہے یا نہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ خدا رسیدہ وہی ہوسکتا ہے جو اس راستے پر چلتا ہے جو خدا تک پہنچتا ہے۔جو شخص خدا تک جانے والے رستہ پر نہیں چلتا وہ خدا تک کس طرح پہنچ سکے گا۔اس میں شبہ نہیں کہ خدا کوئی مادی چیز نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی خاص مکان ہے مگر ساری روحانی اور معنوی چیزوں کے لیے رستے ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر پڑھنایا علم حاصل کرنا مادی چیز نہیں، زبان جاننا مادی چیز نہیں۔اسی طرح جغرافیہ، تاریخ اور حساب کا علم حاصل کرنا مادی نہیں مگر ان سب کے حصول کے لیے کچھ راستے مقرر ہوتے ہیں۔جب تک زبان دانی کے لئے زبان نہ سیکھی جائے، جب تک علم حساب کے لیے حساب کی کتابیں نہ پڑھی جائیں، جب تک جغرافیہ کے علم کے لیے جغرافیہ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں اور جب تک تاریخ دانی کے لیے تاریخ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں تب تک