خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 211

خطبات محمود 211 $1948 میں نے کچھ عرصہ پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ بچے روزے نہ رکھا کریں مگر اس نے سے غلط مطلب لے لیا گیا ہے اور بچے کی تعریف بہت لمبی کر دی گئی ہے۔گویا روزے حذف ہی کر دیئے گئے ہیں۔17 18 سال کی عمر کے بچے کو بھی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ابھی بچہ ہے اس لیے روزے نہیں رکھ سکتا۔حالانکہ روزوں کا زمانہ آٹھ نو سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔پہلے ایک دو روزے رکھے اور پھر اسی طرح ترقی کرتا جائے۔14 ،15 سال کی عمر میں تو اتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ اُسے ضرور روزے رکھنے چاہیں۔ہاں بعض بچے اس عمر میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ڈاکٹر اُن کے متعلق سٹیفکیٹ دے سکتا ہے کہ انہیں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔بہر حال 15 ،16 سال کا بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر روزے رکھ سکے یا سارے روزے رکھ سکے۔1918 سال کی عمر میں تو اُس پر بلوغت کا زمانہ آجاتا ہے۔اُس وقت تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ وہ پورے روزے نہ رکھے۔اگر کوئی اس میں کوتاہی کرتا ہے یا کمزوری دکھاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اچھے بھلے آدمی روزے نہیں رکھتے اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ روزے رکھنے سے پیچپش لگ جاتی ہے۔حقیقت میں اُن کی اپنی نیت نیک نہیں ہوتی اور مروڑوں کا بہانہ کر دیا جاتا ہے۔اصل میں مروڑ اُن کے دل میں اٹھتا ہے اور ایسی کمزوری حائل ہو جاتی ہے کہ وہ اس عبادت سے محروم رہ جاتے پس کوشش کرو اور اس مہینہ سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ۔تہجد پڑھو اور اس طرح پڑھو کہ یہ مہینہ تمہیں تہجد کی عادت ڈال دے۔ہماری جماعت میں یہ کمی بھی پائی جاتی ہے کہ تہجد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔صرف نماز پڑھنی ہی کافی نہیں بلکہ ذکر الہی کی بھی عادت ڈالنی چاہیے۔قادیان میں تو میں نے اکثر کو ذکر الہی کی عادت ڈال دی تھی۔دوسرے احباب کو بھی اس طرف نی جہ کرنی چاہیے۔میں کسی دن مجلس میں پوچھوں گا کہ تم میں سے کتنے تہجد گزار ہیں۔مگر مجھے یقین ہے کہ اتنوں میں کوئی ایسی تعداد تہجد پڑھنے والی نہیں نکلے گی جو خوشی کا موجب ہو۔دوسرے ذکر الہی سے طبیعت میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ذکر الہی کرنا تو گویا سوچ اون (Switchon) کرنا ہے۔سوچ اون (Switchon) کر دیا جائے تو روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور اگر سوچ اون (Switchon) نہ کیا جائے تو پھر اندھیرا ہی رہتا ہے۔اسی طرح اگر ذکر الہی نہ کیا جائے تو طبیعت روشن نہیں