خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 197

$1948 197 خطبات محمود سکتے تھے۔اور یہ دس آدمی اگر مر جاتے تو دوسرے تو ے آدمیوں کو قدرتی طور پر یہ احساس ہو جاتا کہ ہمارے دس بہادر مر گئے ہیں ہمیں اُن کے نقش قدم پر چل کر بہادر بننا چاہیے۔پھر یہ دس آدمی باقی تو ے آدمیوں کو بزدلی دکھانے سے بھی روک سکتے تھے کیونکہ بزدل آدمی اسی خیال میں رہتا ہے کہ دوسرے بھاگیں تو وہ بھاگے۔بھاگنے میں خود پہل نہیں کرتا۔پھر بزدل بننے میں زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔بزدل بننے میں اپنی خود داری کو چھوڑنا پڑتا ہے، عزت و ناموس کو چھوڑنا پڑتا ہے، اپنی قوم کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ایسا کرنے کے لیے زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔اصل میں جو آدمی سب سے زیادہ بزدل ہو گا وہی سب سے زیادہ بہادر ہوگا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اُس نے بزدلی دکھائی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو منہ نہیں دکھا سکے گا ، اپنے دوستوں اور واقف کاروں کو منہ نہیں دکھا سکے گا ، وہ اپنے گاؤں کے رہنے والوں کو منہ نہیں دکھا سکے گا بلکہ وہ اپنے بچے کو بھی منہ نہیں دکھا سکے گا۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اُس نے بزدلی دکھائی تو یہ اس کے لیے بدنامی کا موجب ہو گا، اُس کے خاندان کے لیے بدنامی کا موجب ہوگا۔لیکن باوجود اس کے وہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ ایک رنگ کی بہادری اُس میں بھی پائی جاتی ہے۔بلکہ اپنے رنگ میں اُس کی بہادری بہت زیادہ ہے۔پٹھانوں میں ہوا کا خارج ہونا بہت بُرا سمجھا جاتا ہے۔پنجابی اس کی پروا بھی نہیں کرتے۔لیکن ایک پٹھان کی کسی مجلس میں ہوا خارج ہو جائے تو وہ ساری عمر کسی کو منہ نہیں دکھا سکتا۔کہتے ہیں کہ ایک پٹھان کی کسی مجلس میں ہوا خارج ہو گئی تو شرم کے مارے وہ کہیں چلا گیا اور ایک لمبے عرصہ تک گاؤں میں نہ آیا۔دس بیس سال کے بعد جب اُسے گھر جانے کا خیال پیدا ہوا تو وہ اپنے گاؤں گیا۔اُس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ایک لمبے عرصے تک گاؤں سے باہر رہا ہے اس لیے گاؤں والے وہ بات بھول گئے ہوں گے۔وہ گاؤں گیا اور اپنے گھر کی دیوار کے ساتھ کان لگا کر کھڑا ہو گیا تا وہ باتیں سُن سکے جو اندر ہو رہی ہیں۔اتنے میں اُس کے بچے نے کوئی بات کی جس پر اُس کی اماں نے کہا چل دیوث کہیں کے۔تو اُسی کا ہی بچہ ہے جس کی مجلس میں ہوا خارج ہوگئی تھی۔یہ بات سن کر وہ واپس چلا آیا اور اندر جانے کی جرات نہ کی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔غرض بزدلی دکھانے کے لیے بھی کافی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔حقیقت میں بزدل دلیر ہوتا ہے