خطبات محمود (جلد 29) — Page 190
$1948 190 خطبات محمود بیعت کی کوئی اطلاع مجھے نہیں ملی۔صرف آٹھ دس سال ہوئے کوئٹہ میں ایک شخص احمدی ہوا تو یہاں کی کی جماعت نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار کیا مگر ایک سال کے بعد جب میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ شخص مرتد ہو گیا ہے۔پس سوائے اس واقعہ کے جس کا انجام اچھا نہیں ہوا اور کسی بیعت کا مجھے علم نہیں۔مشرقی پنجاب ہے اگر کوئی یہاں آبسا ہے یا دوسرے علاقوں سے آکر یہاں آباد ہو گیا ہے یا ملازمت کی وجہ سے اس میں آگیا ہے تو یہ یہاں کی جماعت کی کوشش کا نتیجہ نہیں۔میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئٹہ ایسی جگہ ہے جہاں کے لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ نَعُوذُ بِاللهِ احمدیت سے محروم رہیں گے یا کوئٹہ کی آب و ہوا انسان کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ اُس کے دل سے خشیت الہی بالکل مٹ جاتی ہے۔اور وہ کسی کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔اگر واقع میں کسی علاقہ کی آب و ہوا ایسی ہوتی تو یقینا اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دیتے وقت اُس علاقہ کو ستخنی قراردے دیتا اور کہتا کہ تو نبی تو ہے مگر اُس حصہ کے لیے نہیں۔مگر نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی جگہ بتائی جہاں آپ کی تعلیم اثر نہیں کر سکتی تھی یا جہاں کی آب و ہوا میں رہ کر انسان نصیحت سے بالا ہوسکتا تھا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی جگہ بتائی جس کے متعلق کہا جائے کہ یہاں کے لوگ احمدیت کی تعلیم کو قبول نہیں کر سکتے۔پس میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔میں یہ تو ماننے کے لیے تیار ہوں کہ یہاں کے لوگ تبلیغ نہیں کرتے مگر یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہاں کے رہنے والوں پر تبلیغ اثر نہیں کر سکتی۔کیونکہ ان میں سے ایک بات ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتا ہے اور خدا تعالیٰ پر بھی حرف آتا ہے کہ اُس نے اس علاقہ کی فضا ایسی بنادی کہ کوئی شخص مسیح کو مان ہی نہیں سکتا۔اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئٹہ کے لوگ تبلیغ نہیں کرتے تو اس کا الزام کوئٹہ کی جماعت پر آئے گا۔اور یہ سیدھی بات ہے کہ اگر کسی بات کی دو تاویلیں ہوں اور سوال یہ پیدا ہو کہ ان میں سے کس کو مانا جائے ایک سے خدا تعالیٰ پر اعتراض پڑے اور دوسری سے جماعت کو مجرم ٹھہرانا پڑے تو کون بیوقوف ہوگا جو خدا تعالیٰ کو مجرم ٹھہرائے گا؟ لازمی بات ہے کہ وہ جماعت کو ہی مجرم ٹھہرائے گا۔احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو دست آتے ہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ اور اُس کو شہد پلا دو۔وہ دوسری دفعہ آیا