خطبات محمود (جلد 29) — Page 173
$1948 173 خطبات محمود چندہ کے لیے جو تحریک کی گئی تھی چونکہ وہ رقم بڑی بھاری ہے اس لیے شرط یہی ہوگی کہ اگر کوئی شخص 25 فیصدی چندہ دیتا ہے تو چندہ حفاظت مرکز اس میں شامل ہو گا لیکن 25 فیصدی تک اگر چندہ نہیں یتا تو حفاظت مرکز کا چندہ اس میں شامل نہیں ہوگا۔ساڑھے سولہ فیصدی میں سے تمام چندوں کو نکال کر جو روپیہ باقی بچے گا اُسے علیحدہ ریزور رکھا جائے گا۔مثلاً ایک شخص کا چندہ 15 فیصدی بنتا ہے تو اس میں سے ڈیڑھ فیصدی ریز روفنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔اور اگر بارہ فیصدی بنتا ہے تو ساڑھے چار فیصدی ریز روفنڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔اور اگر دس فیصدی بنتا ہو تو ساڑے چھ فیصدی ریز روفنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔حفاظت مرکز کی اس سال کی تحریک کے ختم ہونے کے بعد آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اُس وقت تک اسے جاری رکھا جائے گا جب تک ہمیں قادیان واپس نہیں مل جاتا بلکہ قادیانی کے مل جانے کے بعد بھی اس تحریک کو چند سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا۔بہر حال اس سال جو تحریک کی گئی ہے اُس کا ادنیٰ درجہ ساڑھے سولہ فیصدی ہوگا اور اوپر کا درجہ 1/3 تک کا۔بشرطیکہ کسی کے پچھلے موعودہ چندوں کی مقدار ساڑھے سولہ فیصدی سے زیادہ نہ ہو جاتی ہو۔ایسی صورت میں وہ اپنے موعودہ چندہ کے مطابق چندہ دے گا۔اس کے علاوہ اس وقت میرے نزدیک کم سے کم تحریک یہ ہونی چاہیے کہ جماعت کا ہر فرد وصیت کر دے۔دنیا میں ہر چیز کے مظاہرے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ہمارے ہاتھ سے قادیان نکل جانے کی وجہ سے دشمن کی نظریں اس وقت تک اس طور پر اس امر کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ بہشتی مقبرہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے جس کے لیے یہ لوگ وصیت کیا کرتے تھے۔اب ہم دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیسے وصیت کرتے ہیں۔اس اعتراض کو رڈ کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہر احمدی وصیت کر دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر جو ایمان اور یقین حاصل ہے وہ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکلنے یا نہ نکلنے سے وابستہ نہیں بلکہ ہم ہر حالت میں اپنے ایمان پر قائم رہنے والے ہیں۔یہ کم سے کم مظاہر ہ ایمان ہے جس کی اس وقت تم سے امید کی جاتی ہے۔پس جو شخص ساڑھے سولہ فیصدی بھی نہیں دے سکتا میں سمجھتا ہوں اُس کے لیے کم از کم اس قدر ایمان کا مظاہرہ کرنا کی ضروری ہے کہ وہ وصیت کر دے اور کوشش کریں کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو۔اگر اس تحریک کو پورے زور سے جاری رکھا جائے تو دشمن کا منہ خود بخود