خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 171

$1948 171 خطبات محمود کہلاتا۔اُس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ادب کی حقیقت اُس پر کھلی نہیں ہوتی۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میں جب چھوٹا بچہ تھا تو ماں باپ کی گود میں پیشاب کر لیا کرتا تھا اس لیے میں حق رکھتا ہوں کہ اُن کی گود میں اب بھی پیشاب کر دوں۔یا بچپن میں ماں باپ بچوں کو سر پر بٹھا لیتے ہیں مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں چونکہ بچپن میں اپنے ماں باپ کے سر پر بیٹھا کرتا تھا اس لیے اب بھی میں اُن کے سروں پر بیٹھوں گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہم بچپن میں ایک فعل کو جائز سمجھتے ہیں لیکن بڑے ہو کر اس فعل کو نا جائز سمجھنے لگ جاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ بچپن میں اگر تم اپنے ماں باپ کی گود میں پیشاب کر دیتے تھے تو دیکھنے والے تم پر کسی قسم کا عیب نہیں لگاتے تھے لیکن اب اگر تم ایسا کرو تو ہر شخص تمہیں بے ادب اور بے حیاء کہے گا ؟ اسی وجہ سے کہ فعل تو ایک ہی ہے مگر پہلا افعل اُس وقت کیا گیا تھا جب بچہ میں ماں باپ کا ادب پہچاننے کی طاقت نہیں تھی لیکن اب تمہارا دماغ اس قابل ہو گیا ہے کہ تم ماں باپ کے ادب کو پہچان سکو۔اور چونکہ تمہارے دماغ میں اس قدر روشنی پیدا ہو چکی ہے اور حقیقت تم پر واضح ہو چکی ہے اس لیے اب وہی فعل جو پہلے جائز تھا ناجائز ہو گیا ہے۔غرض مدینہ کے لوگوں نے شرط کی اور معاہدہ کیا کہ ہم مدینہ میں رہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔اس قسم کی شرط کوئی اور بھی کر سکتا ہے۔اب بھی کر سکتا ہے اور آئندہ بھی کر سکے گا۔مگر ایسے انسان کے منہ سے ہی یہ شرط نکل سکتی ہے جو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرے کہ میں ابھی مبتدی ہوں یا ابھی مؤلفۃ القلوب میں شامل ہوں کامل مومن نہیں ہوں۔لیکن ایک ہی وقت میں اگر کوئی کہے کہ میں مومن کامل بھی ہوں اور اپنے ایمان کے ساتھ یہ شرط بھی لگا تا ہوں تو ایسے شخص کے پاگل یا منافق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ جماعت ایک بڑا قدم ترقی کے لیے اٹھا سکتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ سمجھتے ہوئے کہ جماعت ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچی کہ بلا شرط قربانی کے لیے تیار ہو جائے یہ تحریک کی تھی کہ اب بڑی مصیبت کے نازل ہونے کے بعد جبکہ ہماری جماعت کی جائیدادیں مکان کی صورت میں بھی اور نقد روپیہ کی صورت میں ضائع ہو چکی ہیں اور باہر اور قادیان میں ہمارے اخراجات بڑھ گئے ہیں جماعت کے افراد 25 فیصدی سے لے کر 50 فیصدی تک چندہ دیں۔مگر اس مجلس میں شریک ہونے والوں میں سے چند افراد کے سوا باقی جماعت نے اس میں کوئی حصہ نہ لیا۔لیکن اس تحریک کو میں نے جاری رکھا اور یہ تحریک مختلف ذرائع سے کی جاتی رہی۔کیونکہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جماعت کے اکثر