خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 153

خطبات محمود 153 $1948 اس خاتون نے جو اعتراضات لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ " خاندان کی عورتیں سادہ زندگی بسر نہیں کرتیں۔خود کام نہیں کرتیں بلکہ گھروں میں انہوں نے نوکر رکھے ہوئے ہیں۔گوٹہ کناری سے دوسروں کو منع کیا جاتا ہے مگر خود گوٹہ کناری استعمال کی جاتی ہے، سواری استعمال کرتی ہیں ، لجنہ کی کلرک ہیں وہ خود کام نہیں کرتیں۔جہاں تک سادہ زندگی کا تعلق ہے یہ ایک نسبتی لفظ ہے۔ہم سادہ زندگی کی کوئی ایک تعریف نہیں کر سکتے۔مثلاً سادہ زندگی میں پہلے کھانا آتا ہے۔کھانے کے متعلق ہم نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ ایک کھانا ہو۔اس کے متعلق اس خاتون سے بہر حال میں زیادہ واقف ہوسکتا ہوں کیونکہ میں روزانہ گھر میں کھانا کھاتا ہوں۔اور یہ بھی لازمی بات ہے کہ اگر گھر میں ایک سے زیادہ کھانے پکے ہوں تو عورت اپنے خاوند کے آگے ہی وہ کھانے رکھتی ہے۔مگر جہاں تک میر اعلم ہے ہمارے گھروں میں ایک ہی کھانا پکتا ہے سوائے بیمار کے۔مثلاً بیمار کو بے مرچ سالن چاہیے۔اب سب گھر والوں کو تو بے مرچ سالن نہیں دیا جا سکتا۔اگر کسی بیمار کے لیے بعض دفعہ بے مرچ سالن بھی تیار ہو جائے تو اس کو دوکھانے نہیں کہہ سکتے۔یا مثلاً کسی کو پیچش ہو اور اُس کے لیے خشکہ پک جائے تو یہ بھی دو کھانے نہیں ہوں گے کیونکہ روٹی اور نے کھانی ہے اور خشکہ اور نے کھانا ہے۔پچھلے دنوں مجھے پچپش کی شکایت رہی ہے۔اس لیے میرے لیے ساگودانہ الگ پکتا رہا ہے کیونکہ اطباء نے لکھا ہے کہ پیچش میں ساگودانہ وغیرہ چیزیں استعمال کرنی چاہیں تا کہ انتریوں میں لزوجت 3 پیدا ہو اور زخم جلدی مندمل ہوسکیں۔یک بچہ تو ساگودانہ پر گزارہ کر سکتا ہے مگر بڑا آدمی گزارہ نہیں کر سکتا۔اس لیے علاوہ ساگودانہ کے خشکه شور با یا خشکه دال بھی پکانا پڑتا ہے۔یا بعض دفعہ اطباء اسبغول تجویز کرتے ہیں مگر اُس کو بھی دوسرا کھانا نہیں کہا جاسکتا۔بہر حال جہاں تک کھانے کا سوال ہے میں گواہی دے سکتا ہوں اور باورچی خانہ والے بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ہمیشہ ایک کھانا تیار ہوتا ہے سوائے اس کے کہ غلطی سے کوئی شخص اور نتیجہ نکال لے۔مثلاً ہمارے باورچی خانہ میں سات آٹھ گھروں کے کھانے پکتے ہیں۔میرے بہنوئی ہیں، بہنیں ہیں، بھائی ہیں ، بھتیجے ہیں چونکہ سب کے کھانے ایک ہی جگہ تیار ہوتے ہیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص غلطی سے یہ سمجھ لے کہ یہ سب کھانے ایک گھر کے لیے ہیں حالانکہ وہ الگ الگ گھروں کے لیے تیار ہوتے ہیں اور الگ الگ افراد ان کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔بہر حال ہمارے گھر میں صرف ایک کھانا پکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔