خطبات محمود (جلد 29) — Page 137
$1948 137 خطبات محمود گے کہ یہ غلطی ہوئی وہ غلطی ہوئی یا فلاں وجہ سے سائبانوں کا انتظام نہیں ہو سکا۔مگر سوال یہ ہے کہ وجوہات تو ہوتی ہی رہتی ہیں مجھے اپنے ملک کی ذہنیت میں سے سب سے بڑی قابلِ اعتراض بات یہی نظر آتی ہے کہ وہ پہلے سوچتے نہیں کہ کیا مشکلات پیش آئیں گی۔اور چونکہ وہ سوچتے نہیں اس لیے مشکلات کو دور کرنے کے لیے جدو جہد نہیں کرتے۔اور چونکہ وہ جد و جہد نہیں کرتے اس لیے جب کام نہیں ہوتا تو کہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں مشکل پیش آگئی تھی اس لیے کام نہ ہو سکا۔حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مشکلات آسمان سے اچانک آگری تھیں ؟ اگر وہ ممکن مشکلات تھیں تو پھر ممکن کوشش بھی ان کو کرنی چاہیے تھی یا ممکن مشکلات کے پیش نظر انہیں ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔بہر حال دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہونی چاہیے۔یا تو جو ممکن مشکلات ہوں اُن کے متعلق ممکن جدوجہد کرنی چاہیے یا ممکن مشکلات کو دیکھتے ہوئے کام کرنے سے انکار کر دینا چاہیے۔انہوں نے بھی جب ایک کام کرنے کا وعدہ کیا تھا تو اُس کام میں جو ممکن مشکلات تھیں اُن کا انہیں پتہ ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کیوں یہ خیال کر لیا کہ جو سو فیصدی آج حالات ہیں وہی کل بھی ہوں گے۔یہی خیال کر لینا بددیانتی ہوتی ہے۔خدا نے ہر کام میں مشکلات بھی پیدا کی ہیں اور پھر حالات بھی روز بروز بدلتے رہتے ہیں۔جب کوئی شخص کسی کام کا اقرار کرے تو اُسے سوچنا چاہیے کہ میں اسے کہاں تک پورا کرسکتا ہوں۔مگر ہمارے ملک کے لوگ وعدہ کر کے اول تو بیٹھے رہیں گے اور اگر کام کے لیے جائیں گے تو آخری روز جائیں گے اور آکر کہہ دیں گے کہ ہم تو گئے تھے مگر دُکان بند تھی۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب دکان اور دنوں میں بھی کھلی ہوتی ہے تو تم جمعرات یا جمعہ کو کیوں گئے؟ تمہارے جھوٹے ہونے کی علامت ہی یہی ہے کہ تم جمعرات کو جاتے ہو اور جب تم دکان بند پاتے ہو تو اس کے بعد تمہارے لیے اور کوئی صورت نہیں رہتی۔تمہارا فرض تھا کہ تم ہفتہ کو جاتے اور اگر ہفتہ کے دن دکان کو بند پاتے تو اتوار کو جاتے۔میں اتوار کا اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ آجکل بعض دکا نہیں تو اتوار کو بند ہوتی ہیں مگر بعض پیر یا کسی اور دن بند ہوتی ہیں۔اگر اتوار کو بھی دکان کو بند پاتے تو پیر کو جاتے اور اگر پیر کے دن بھی تم اُس دکان کو بند پاتے اور تم میں عقل ہوتی تو تم سمجھتے کہ اب ہمیں کسی اور دکان پر جانا چاہیے۔چنانچہ منگل کے دن تم کسی اور دکان پر جاتے۔فرض کرو وہ دوسری دکان کھلی تو ہے مگر دکاندار ریٹ زیادہ بتا تا ہے تو بدھ اور جمعرات دو دن ابھی تمہارے پاس ہوتے۔تم بدھ کے دن کسی اور دکان پر