خطبات محمود (جلد 29) — Page 119
$1948 119 خطبات محمود کرنے والوں پر خفا ہوا اور اُس نے کہا بڑے آدمی ایسے ہی ہوتے ہیں۔دیکھو! اُن کو ذرا بھی احساس ہے نہیں ہوا کہ میں ایک معمولی آدمی سے طب پڑھتا ہوں بلکہ اُنہوں نے برملا اُس کو اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔تو علم حاصل کرنے کی خواہش مومن کے اندر ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔وہ کبھی یہ خیال نہیں کرتا کہ اگر میں نے کوئی بات پوچھی تو لوگ کہیں گے یہ اتنا بڑا عالم بنا پھرتا تھا مگر اسے فلاں بات بھی معلوم نہیں۔وہ پوچھنے اور علم حاصل کرنے کی خواہش کے لحاظ سے باوجود اُستاد بن جانے کے ہمیشہ شاگرد رہتا ہے اور نہ صرف لوگوں سے علم حاصل کرتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی یہی کہتا ہے کہ رَبّ زِدْنِي عِلْمًا - دوسرے مومن کے اندر ہمیشہ جوانی والی قوت عملیہ پائی جانی چاہیے۔بوڑھا ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ انسان ناکارہ ہو جائے اور کام کرنے سے اُسے چھٹی مل جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے مگر اس عمر میں بھی جہاد اور دوسرے تمام قومی کاموں میں آپ حصہ لیتے تھے اور یہی اللہ تعالیٰ کے تمام مومن بندوں کا شیوہ ہوتا ہے۔خدا کے بندے کبھی پنشن نہیں لیتے۔یہ دنیا دار لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں کہ اب پینشن کا زمانہ آ گیا ہے۔خدا تعالیٰ کے بندے اس دنیا میں کبھی آرام نہیں کرتے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے لیے آرام کا مقام مرنے کے بعد ہے۔گلے جہان میں فرشتے انسان کی خدمت میں لگے رہیں گے اور انسان ذکر الہی کرے گا۔لیکن اس جہان میں بندے خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی ترقی میں حصہ لیں اور ایسے کام کریں جن سے لوگوں کی فلاح و بہبود وابستہ ہو۔غرض مومن بڑھاپے میں قوت عمل کے لحاظ سے جوان ہوتا ہے اور جوانی میں عقل اور تجربہ کے لحاظ سے بڑھا ہوتا ہے۔اور پھر جوانی اور بڑھاپے کی کسی حالت میں بھی وہ علم سے محرومی برداشت نہیں کر سکتا۔جس شخص میں یہ تین خوبیاں پائی جائیں یعنی وہ جوانی میں بڑھا بھی ہو اور بچہ بھی اور بڑھاپے میں جو ان بھی ہو اور بچہ بھی وہ کبھی ذلت اور رسوائی کا منہ نہیں دیکھ سکتا۔ہر شخص جو دنیا میں عزت کا کوئی مقام حاصل کرتا ہے اس میں یہ تین خوبیاں ضرور پائی جاتی ہیں۔علم بڑھانے کی خواہش اُس میں انتہا طور پر پائی جاتی ہے۔وہ بلا وجہ کسی بات کو نہیں مانتا بلکہ ہر چیز کی گنہہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر اُس میں قوت عملیہ ہوتی ہے اور وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔پھر اس میں تدبر اور سوچ بچار اورغور وفکر کا مادہ پایا جاتا ہے اور