خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 91

$1948 91 خطبات محمود تو غالباً چین کی حکومت بھی آبادی کے لحاظ سے انڈین یونین سے نیچے رہ جاتی ہے۔دراصل سارے ہندوستان کی آبادی پہلے چالیس کروڑ تھی۔اس لیے ہم جب انڈین کی آبادی کا اندازہ لگاتے ہیں تو پاکستان کی آبادی کو نکال کر اندازہ لگاتے ہیں۔اسی طرح اگر چین کی وہ آبادی نکال دی جائے جو چین کے ماتحت نہیں اور جو چین کی آبادی کا 1/3 حصہ ضرور ہے اور مجموعی طور پر اُس کی تعداد سولہ سترہ کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تو چین کی آبادی بھی انڈین سے کم رہ جاتی ہے۔بعض لوگ تو چین کے کمیونسٹ حلقہ کی آبادی بہت زیادہ بتاتے ہیں۔آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں اس طرح نصف چین نکل جاتا ہے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔اگر وہ صلح کے ساتھ دے تب بھی جس جدو جہد کی ضرورت ہے وہ بڑی بھاری سنجیدگی اور بڑی بھاری قربانی چاہتی ہے اور اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے تب بھی ضروری ہے کہ آج سے ہی ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔اگر ایک چھوٹی سی جماعت کے کچھ افراد یہ کہیں کہ ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور باقی لوگ تیار نہ ہوں تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ہماری جماعت صلح کی بنیادوں پر قائم ہے اور جہاں تک ہو سکے گا ہم صلح سے ہی اپنے مرکز کو واپس لینے کی کوشش کریں گے۔دوسرے ہمارے ہاتھ میں حکومت نہیں اور جنگ کا اعلان حکومت ہی کر سکتی ہے افراد نہیں کر سکتے۔گویا اس وقت اگر جنگ کا اعلان ہو تو دو ہی حکومتیں کر سکتی ہیں یا انڈین یونین کر سکتی ہے یا پاکستان کر سکتا ہے۔ہم پاکستان گورنمنٹ نہیں کہ انڈین یونین سے اعلانِ جنگ کر سکیں۔ہم آزاد علاقہ کے بھی نہیں کہ ہم ایسا اعلان کرنے کے مجاز ہوں۔اس لیے اگر جنگ کے ذریعہ ہی ہمارے مرکز کا ملنا ہمارے لیے مقدر ہے تب بھی جنگ کے۔۔۔۔سامان خدا ہی پیدا کر سکتا ہے۔ہمارے اندر یہ طاقت نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں اور نہ شریعت ہمیں جنگ کی اجازت کی دیتی ہے۔شریعت جنگ کا اختیار صرف حکومت کو دیتی ہے اور حکومت ہمارے پاس نہیں۔پس جنگ سے بھی اُسی صورت میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب خدا ایسے سامان پیدا فرمائے اور انڈین یونین سے کسی اور حکومت کی لڑائی شروع ہو جائے۔بہر حال خواہ صلح سے ہمارا مرکز