خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 62

$1948 62 خطبات محمود آئے جب آپ کو فاقے کرنے پڑے۔مگر کیا جب فاقہ کے دن آئے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خدا سے یہ کہا کہ مجھے فاقے کیوں آرہے ہیں؟ جو شخص فاقہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے کیوں فاقہ آیا ہے وہ مستحق ہے اس بات کا کہ دنیا کی ہر نعمت اُس کو دی جائے کیونکہ وہ ہر حالت پر خوش ہے۔وہ اپنے آقا سے بطور حق کے کچھ نہیں مانگتا۔جب دینے والا کچھ دے دیتا ہے تو وہ لے لیتا اور استعمال کرتا ہے۔اور جب نہیں دیتا تو اُس کی زبان پر کوئی شکوہ نہیں آتا۔لوگ ملا زمت تلاش کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دریافت کرتے ہیں کہ بتائیے ہمارا گریڈ کیا ہوگا۔جب بتایا جاتا ہے کہ فلاں گریڈ ہوگا اور مثلاً دوسو سے تین سو تک تنخواہ ہوگی تو وہ پوچھتے ہیں کہ کیا اسی پر ملازمت ختم ہو جائے گی یا اور بھی ترقی ملے گی؟ اس پر انہیں بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد تمہیں فلاں گریڈ دیا جائے گا جس میں چھ سو تک تنخواہ جاتی ہے۔مگر کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی مطالبہ کیا تھا ؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز آئی تھی کہ اُٹھ اور دنیا کی خدمت کے لیے کھڑا ہو تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھا تھا کہ میرا کیا گریڈ ہوگا ؟ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھا تھا کہ مجھے کیا ملے گا ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک ہی بات جانتے تھے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ کھڑا ہو جا اور وہ کھڑے ہو گئے۔اگر خدا نے کی انہیں کچھ کھلایا تو اُنھوں نے کہا یہ کھانا میرے رب کی نعمت ہے۔اور اگر نہیں کھلایا تب بھی اُنہوں نے کہا کہ یہ فاقہ میرے رب کی نعمت ہے۔ہزاروں ہزار بلکہ لاکھوں لاکھ اشرفیاں لوگوں کے گھروں میں بھری ہوئی ہوتی ہیں مگر اُن کے دلوں میں کبھی یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہم پر خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے ساتھ احسان مندی کے جذبات کچھ اس قسم کے تھے کہ آسمان سے بارش برستی تو وہ زمیندار جس کی کھیتیاں اُس بارش سے تیار ہوتیں خاموشی کے ساتھ گزر جاتا۔اُسے پانی جمع کرتے ہوئے کبھی خیال بھی نہ آتا کہ یہ کہاں سے آگیا ہے۔وہ شہر جن میں کنویں نہیں ہوتے اور جہاں کے رہنے والے بارش ہونے پر تالابوں میں پانی جمع کر لیتے ہیں تاکہ سال بھر اُن کی ضروریات پوری ہوتی رہیں وہ بھی اپنے لیے اور اپنے جانوروں کے لیے پانی جمع کرتے ہیں مگر اُن کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ان کے رب نے اُن پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے نہ تالاب تھے نہ کھیتیاں تھیں نہ جانور