خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 441

$1948 441 خطبات محمود اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں کہ جو جماعت کے شیرازہ کو پراگندہ کرنے کا موجب ہو سکتی ہیں اور ان زیادہ تر اُن کے اعتراضات احمدیت کو چھوڑ کر خلافت اور خصوصاً خلیفہ پر ہوتے ہیں اور ایک عرصہ سے ایک ایک کر کے جماعت کے دوستوں نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے پروپیگنڈا کو کسی نہ کسی طرح روکنا چاہے اور ایسے لوگوں کو جماعت سے خارج کر دینا چاہیے۔میں اس بات کو دیر سے ٹلاتا رہا ہوں اور اس کی بعض وجوہ ہیں لیکن اب چونکہ یہ سوال مختلف لوگوں کی طرف سے اور مختلف جگہوں سے آرہا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق اپنے خیالات لوگوں کو بتا دوں۔پہلی چیز جو مجھے اس بات پر آمادہ کرتی رہی ہے کہ میں اس امر پر کسی قسم کا نوٹس نہ لوں وہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے کہا ہے کہ اس بات سے چونکہ فتنہ کا اندیشہ ہے اس لیے ایسے لوگوں کو جماعت سے خارج کر دینا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض وقت اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے فتنے پیدا کیے اور ہم نے انہیں جماعت سے خارج کر دیا۔بلکہ درحقیقت انہیں خارج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جو لوگ اس قسم کا کام کرتے ہیں وہ آپ ہی آپ جماعت سے نکل جاتے ہیں۔ہمارا کام صرف اتناہی تھا کہ ہم بتا دیتے کہ فلاں آدمی جماعت سے نکل گیا ہے لیکن بہر حال ایسے کی الفاظ محکموں کی طرف سے بولے جاتے رہے ہیں کہ فلاں آدمی کو جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔گو حقیقتا وہ اپنے ہی عمل سے جماعت سے خارج ہو جاتا ہے۔احمد یہ جماعت کے پاس کوئی حکومت نہیں کہ اس میں خیالات کا اختلاف اس حد تک جائز ہو جو تضاد کی صورت اختیار کر جائے بلکہ یہ ایک مذہب ہے اس میں اختلاف صرف ایک حد تک جائز ہے اور جب اختلاف اس حد سے بڑھ جائے تو وہ ناجائز ہو جاتا ہے۔جب کوئی آدمی اس حد سے گزر جاتا ہے تو وہ اپنے عمل سے آپ ہی جماعت سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیتا ہے۔پس در حقیقت اس اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی مگر بعض دفعہ ایسے اعلان کیے گئے اور ان لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ دوسرے لوگوں کو ہم سے متنفر کرنے اور ہمارے اثر سے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ بات تو جھوٹی ہے لیکن پھر بھی بعض کمزور لوگ خیال کرتے تھے کہ اگر ایسے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جاتا تو ان کے لیے زیادہ سہولت پیدا ہو جاتی اور وہ اپنے خیالات کو زیادہ آسانی کے ساتھ لوگوں میں پھیلا سکتے۔پس اس خیال کے ماتحت میں نے سوچا کہ اس دفعہ ایسے لوگوں کے خلاف میں کسی قسم کا قدم نہ اٹھاؤں بلکہ انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور جو کچھ وہ