خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 395

$1948 395 خطبات محمود فلاں بزرگ کی دعائیں سنتا ہے۔اُس کی زبان میں اُس نے برکت رکھی ہوئی ہے۔اگر ہم اس سے تعلق پیدا کریں گے اور اس سے دعائیں کرائیں گے تو ہماری مشکلات دور ہوں گی۔اسی طرح مادی نظام میں لوگ اُسی وقت حصہ لیتے ہیں جب خودان کو اپنا فائدہ بھی نظر آتا ہو۔پس تنظیم ایسی ہونی چاہیے جس میں صرف لینے کا سوال نہ ہو بلکہ دینے کا بھی ہو۔اور محلہ کی تنظیم افراد کے فائدہ کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرتی ہو تا کہ ان کے دلوں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہو اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کے لیے مفید بناسکیں۔مثلاً دیہاتی مبلغ اگر بچوں کو قاعدہ پڑھانے لگ جائیں یا جن کو قرآن کریم نہ آتا ہو اُن کو قرآن کریم پڑھانا شروع کریں اور یہ تحریک سارے محلہ میں پھیل جائے تو محلہ والوں میں خود بخود بیداری کا احساس پیدا ہو جائے گا اور وہ بھی کام کرنے لگ جائیں گے۔بہر حال محلہ کے لوگوں کے لیے کوئی نہ کوئی فائدہ کی صورت ہونی چاہیے۔یا مثلاً یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے کوئی شخص غریب ہو جائے تو اس کے لیے بطور امداد یا بطور قرض کچھ رقم جمع کی جائے مگر اس کی بھی محلہ والے ہی نگرانی کر سکتے ہیں شہر کی انجمن سے تعلق رکھنے والے نہیں۔بہر حال مقامی انجمنوں کو لوگوں کے فائدہ کے لیے کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہیے۔اب محلہ کی انجمنیں صرف نام کی ہیں اور شہر کی انجمن کو ہی اصل انجمن سمجھا جاتا ہے۔بے شک لاہور میں مختلف حلقے بنے ہوئے ہیں مگر انجمنوں والے مفید کام ابھی تک انہوں نے نہیں کیے۔ان باتوں پر غور کر کے کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنا جماعت کے لیے نہایت ضروری ہے۔اس کے بعد جماعت کو ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ وہ زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف اپنا قدم اٹھا سکے گی۔اس وقت جماعت کی حالت یہ ہے کہ وہ یکدم 1/2 فیصدی آبادی سے گر کر 1/4 فیصدی تک آگئی ہے۔بے شک یہاں کی جماعت میں کسی قدر اضافہ بھی ہوا ہے مگر اس کے مقابلہ میں دوسری آبادی بہت زیادہ بڑھی ہے۔پہلے ہم ہندو آبادی کو چھوڑ کر صرف مسلمان آبادی کے مقابلہ میں اپنا اندازہ لگاتے تھے مگر اب جتنے ہندو گئے ہیں اُن سے زیادہ مسلمان یہاں آگئے ہیں۔ہندوؤں نے اس شہر کو چھوڑا ہے۔اُس وقت لاہور کی آبادی نو لاکھ کی تھی مگر اب سترہ لاکھ ہے۔پہلے نو لاکھ آبادی میں سے چار لاکھ ہندو اور پانچ لاکھ مسلمان تھے مگر اب سترہ لاکھ سب کے سب مسلمان ہیں۔اگر شہر لاہور نے ترقی کی، مسلمانوں نے ترقی کی، مسلمانوں کے دوسرے فرقوں نے ترقی کی لیکن احمدیت نے افراد میں ترقی کرنے کی بجائے تنزل اختیار کیا تو یہ چیز ایسی ہے جس کو دور کرنے کے لیے معمولی جد و جہد کام