خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 378

$1948 378 خطبات محمود تو ساری خرابیاں اور فتنے پیدا ہو جاتے ہیں۔تعداد کچھ چیز نہیں تعداد کا بڑھ جانا کوئی خوبی نہیں۔اخلاص نے اور ایمان اصل چیز ہے۔اگر کسی میں اخلاص اور ایمان پیدا ہو جائے تو یقینا اس کے نتیجہ میں وہ زیادہ کام کرے گا۔حضرت معین الدین صاحب چشتی ہندوستان میں اکیلے تشریف لائے تھے اور اب یہاں کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں۔چین میں چند مہاجرین گئے تھے اور انہوں نے وہاں تبلیغ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کثرت سے مسلمان ہو گئے۔غرض قربانی اور ایثار سے نتائج پیدا ہوتے ہیں تعداد سے نہیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ تم تعداد بڑھانے کی کوشش نہ کرو تم تعداد بڑھانے کی کوشش کرو مگر مخلص لوگوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرو۔یہاں کچھ دنوں سے تبلیغ شروع ہوئی ہے میرے پاس کچھ لوگ بیعت کے لیے لائے گئے۔میں نے دعوۃ و تبلیغ کولکھا کہ یہ سب بیعتیں دکھاوے کی ہیں۔ہمارے مبلغ نے چاہا ہے کہ میں بھی کوئی کارنامہ دکھاؤں۔میرے دل پر یہی اثر ہے۔اس کے بعد ایک صاحب آئے اور انہوں نے بیعت کی۔میں نے بھی اُن کی بیعت منظور کر لی۔مجھے وہ جھوٹے معلوم ہوتے تھے۔آٹھ نو دن کے بعد وہ کپڑے اور دوسری چیزیں اٹھا کر بھاگ گئے۔صبح میرے پاس شکایت آئی کہ یہ نقصان ہو گیا ہے۔خیر اس دن کے بعد بیعت بند ہوگئی۔میں نے کہا شکر ہے کہ اب ایسے لوگ جماعت میں داخل نہیں ہوں گے۔یہ لوگ گھر کا نقصان ہی کرتے ہیں۔پس تم تعداد بڑھاؤ مگر مخلصوں کولو، ایمان والوں کو لو۔اگر کوئی کمزور آ جائے تو اُس پر بوجھ ڈال دو، اُس کی اصلاح کرو۔اگر اس کی اصلاح ہو جاتی ہے، اس کی درستی ہو جاتی ہے تو اچھی بات ہے ورنہ اُس سے کہ دو کہ تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔اس لیے تم ہم سے الگ ہو جاؤ۔جماعت کی ترقی تعداد سے نہیں ہوتی۔ترقی قربانی اور ایثار سے ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندے اس دنیا میں دو ارب ہیں مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو بھیجا اور اُس نے کہا "دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا"۔7 آخر خدا تعالیٰ کو حملے کی کیا ضرورت تھی؟ جن پر حملے کیے جانے تھے وہ تو خدا تعالیٰ کے بندے تھے۔لیکن چونکہ وہ مخلص نہیں تھے اس لیے خدا تعالیٰ خود حملہ آور ہونے کی خبر دیتا ہے۔اگر اخلاص اور ایمان کا سوال نہ ہوتا تو پھر ان حملوں کی کیا ضرورت تھی۔پس وہ لوگ جو نہیں سمجھتے انہیں سمجھاؤ۔