خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 333

$1948 333 خطبات محمود کے وقت ادھر ادھر پھیل جائیں گے لیکن کھڑے ہونے پر معلوم ہوا کہ یہ خیال درست نہیں تھا۔پھر جہاں تک اس مقام کے عرض کا سوال ہے اس کا عرض بھی اُتنا نہیں جتنارتن باغ کے میدان کا۔اور جہاں تک طول کا سوال ہے وہ قطعی طور پر اُس سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتا۔یہ جو صف ہے وہاں کی ، وہ صف کا چوتھا پانچواں بلکہ چھٹا حصہ ہے۔یہی چیز ہمیں توجہ دلاتی ہے کہ در حقیقت جماعت کی طرف سے مسجد کے بنانے میں بہت دیر ہوگئی ہے۔انسانی فطرت بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ ہمیشہ قیاس کیا کرتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ ان حالات میں وہاں یہ یہ کچھ ہو گا۔میں سمجھتا ہوں کہ کئی آدمی ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ خیال کر لیا ہو گا کہ چونکہ مسجد میں جگہ تھوڑی ہے اس لیے اگر ہم گئے بھی تو وہاں ہمیں جگہ نہیں ملے گی حالانکہ بسا اوقات ایسا خیال غلط ہوتا ہے۔مثلاً اگر سو آدمی کی گنجائش ہے اور ایک سو دس آدمی آنے والا ہے تو پچاس ساٹھ اپنی اپنی جگہ یہ خیال کر لیں گے کہ وہاں جگہ نہیں ہوگی اور اس طرح وہ پچاس ساٹھ بھی نہیں آئیں گے اور جگہ خالی رہے گی مگر وہ جگہ صرف اسی لیے خالی رہے گی کہ کچھ لوگوں نے خیال کر لیا ہوگا کہ وہاں جگہ نہیں۔مجھے یاد ہے میرے بچپن کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار ہو گئے اور آپ جمعہ کی نماز کے لیے تشریف نہ لے گئے۔میری عمر اُس وقت تیرہ چودہ سال کی تھی۔میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ابھی میں جاہی رہا تھا کہ راستہ میں مجھے کوئی شخص آتا ہوا ملا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا خطبہ شروع ہو گیا ہے؟ اُس نے کہا وہاں تو جگہ ہی نہیں ساری مسجد بھری ہوئی ہے اس لیے میں واپس آ گیا ہوں۔اُس کی یہ بات سن کر میں بھی واپس آ گیا۔بچپن کی عمر تھی میں نے سمجھا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہوگا حالانکہ میرا فرض تھا کہ میں پہلے تحقیق کرتا کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ مجھے یہ سبق دینا چاہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تجسس کرنے کی نہیں تھی مگر اُس روز جب میں واپس آیا تو آپ نے خلاف معمول مجھ سے فرمایا کہ محمود اتم جمعہ میں نہیں گئے ؟ میں نے کہا وہاں تو اتنے آدمی ہیں کہ مسجد میں کوئی جگہ ہی نہیں۔اس لیے میں واپس آ گیا ہوں۔اُس وقت تو آپ خاموش رہے۔مگر جمعہ کے بعد جب آپ کی عیادت کے لیے کچھ دوست آئے جن میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بھی تھے جو خطبہ پڑھایا کرتے تھے تو آپ نے خلاف عادت اُن کے آتے ہی یہ سوال کیا کہ کیا آج جمعہ میں کچھ زیادہ لوگ تھے؟