خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 319

$1948 319 خطبات محمود خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:۔"سیدمحمود احمد صاحب سعید حیدر آبادی کی والدہ فوت ہوگئی ہیں، مرزا منور احمد صاحب مبلغ امریکہ فوت ہو گئے ہیں، ان کے علاوہ عبدالرشید صاحب میرٹھ والے کی پوتی کہتی ہیں کہ ان کے دادا فوت ہو گئے ہیں اور آپ پرانے صحابی تھے نماز جمعہ کے بعد میں ان سب کا جنازہ پڑھاؤں گا۔مرزا منور احمد صاحب جو امریکہ کے مبلغ تھے میری ایک بیوی ام متین کے ماموں ، میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم کے سالے اور نہایت مخلص نو جوان تھے۔ان کے معدہ میں رسولی ہوئی اور وہ فوت ہو گئے۔ویسے تو ہر ایک کو موت آتی ہے لیکن اس طرح کی موت گو ایک طرف قوم کے لیے فخر کا موجب ہوتی ہے لیکن دوسری طرف اس کا افسوس بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو پندرہ میں سال میں تیار کیا جائے اور وہ جوانی کی حالت میں فوت ہو جائے۔مرزا منور احمد صاحب کا کام نہایت اعلیٰ درجہ کا تھا اور امریکہ کی جماعتوں میں انہی کی جماعت کو ان سے زیادہ محبت تھی۔ابھی پچھلے دنوں امریکہ کی جماعتوں کی جو کا نفرنس ہوئی ہے اس میں بھی یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ علاقہ جس میں مرزا منور احمد صاحب مبلغ تھے دوسرے علاقہ کی جماعتوں سے دینی کاموں میں بڑھ گیا ہے۔پھر ان لوگوں نے اپنی محبت کا بھی ثبوت دیا۔جب ڈاکٹروں نے جسم میں خون داخل کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے علاقہ کے نو مسلموں میں سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا خون پیش کر دیا اور چونکہ ان کی ٹائپ کا خون ملتا نہیں تھا اس لیے جس نو مسلم کو یہ معلوم ہو جاتا کہ میرا خون مرز منور احمد کے خون کے مشابہ ہے تو وہ بے انتہا خوش ہوتا اور فخر کرتا کہ میرا خون ان کے خون سے ملتا ہے۔جب مرحوم کے جسم میں خون کے داخل کرنے کی زیادہ ضرورت پیش آگئی اور ان کے خون کی ٹائپ کا اور خون نہ ملا تو ڈاکٹروں نے کہا آپ لوگ اپنا خون دے دیں۔ہم اپنے پاس سے ان کے ٹائپ کا خون استعمال کر لیں گے اور آپ کا خون آئندہ کے لیے رکھ لیں گے۔اس پر ان سب نے اپنا خون پیش کر دیا۔یہ چیز اس بات کی علامت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے امریکہ کی جماعت اخلاص میں ترقی کر رہی ہے اور یہ مرحوم کے نیک نمونہ کا ایک زبر دست ثبوت ہے"۔(الفضل 6 اکتوبر 1948 ء )