خطبات محمود (جلد 29) — Page 310
$1948 310 خطبات محمود سے بعض سرا ئیں امراء نے بنائی تھیں اور کچھ سرا ئیں خود حکومت نے بنائی تھیں۔لیکن اب تو ایسا رواج ہو گیا ہے کہ جو کوئی دوسرے شہر میں جاتا ہے وہ ہوٹل میں ٹھہرتا ہے اور اس زمانہ میں معمولی سے معمولی اور ذلیل سے ذلیل ہوٹل بھی ایک روپیہ فی کس کرایہ کا ان سے لیتا ہے اور کھانے وغیرہ کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔پھر خورا کیس بھی بدل گئی ہیں۔پہلے زمانہ میں امیر سے امیر اور غریب سے غریب آدمی کی خوراک میں بہت کم فرق ہوتا تھا لیکن اب بہت زیادہ فرق ہے۔اُس زمانہ میں ایک امیر سے امیر آدمی اور ایک غریب سے غریب آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اکٹھا بیٹھ کر کھا سکتے تھے کیونکہ اُن کی خوراکوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔مگر اب تو ایک امیر آدمی معمولی آدمی کے ساتھ تو کیا ایک درمیانے درجے کے آدمی کے ساتھ بھی اکٹھا بیٹھ کر کھانا کھانے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس کی خوراک اس کے موافق نہیں۔غرض تمدن کے فرق کی وجہ سے، ذرائع نقل و حرکت کے فرق کی وجہ سے اور اس فرق کی وجہ سے کہ اُس زمانہ میں آبادیاں اس طور پر تھیں کہ اُن میں بغیر سواری کے سفر کیا جا سکتا تھا تبلیغ بغیر پیسہ لیے ہو جاتی تھی مگر اب تبلیغ بغیر پیسہ کے نہیں ہو سکتی۔قربانی کرنے والے تو آگے آجائیں گے، جانیں پیش کرنے والے بھی مل جائیں گے لیکن یہ چیز اُس وقت تک مفید نہیں ہو سکتی جب تک جانی قربانی کے ساتھ مالی قربانی بھی پیش نہ کی جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فتح نو جوانوں سے ہی ہوتی ہے مگر جب تک پیسہ نہ ہوان کی قربانیوں سے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکتا۔الفضل میں دوستوں نے پڑھا ہوگا کہ مجھے ایک غیر احمدی فوجی افسر نے ایک چٹھی لکھی تھی جس میں اُس نے لکھا تھا کہ آپ جن ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں وہ بے فائدہ ہے۔آپ مبلغ تو باہر بھیج دیتے ہیں مگر انہیں کافی سامان نہیں دیتے جس کی وجہ سے اُن کی صحتیں برباد ہو جاتی ہیں اور وہ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔میں نے اس چیز کا خود تجربہ کیا ہے۔میں دو تین سال ملایا میں رہا ہوں اور آپ کے مبلغین کی حالت کو دیکھا ہے۔میں باوجود سلسلہ احمدیہ کی عظمت کو تسلیم کرنے کے اور اُس کی تبلیغی مساعی سے متاثر ہونے کے یہ عرض کروں گا کہ آپ مبلغین کو اتنا کھانا ضرور دیں جس سے وہ اپنی صحتوں کو قائم رکھ سکیں۔یہ چٹھی ایک ایسے شخص نے لکھی ہے جس کا احمدیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔گویا ایک غیر احمدی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ہم مبلغین کو اتنا خرچ نہیں دے رہے جو ان کی صحتوں کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔غرض تبلیغ کے لیے روپیہ کی بھی ضرورت ہے۔