خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 296

$1948 296 خطبات محمود تو اندرسوئیں ، ہوا ٹھنڈی چل رہی ہے تو سر ڈھانک کر رکھیں یا خشکی کا دور دورہ ہے تو سر کو کھلا رکھیں، دھوپ نکلی ہوئی ہے تو سایہ میں چلیں یا بارش برس رہی ہے تو چھت کے نیچے ٹھہر میں یا جبس ہے تو باہر نکل آئیں۔صبح و شام ان باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں دن بھر میں انسان اپنے جسم کے متعلق پندرہ ہیں دفعہ ضرور سوچتا ہے کہ اسے اب کس چیز کی ضرورت ہے۔کبھی خیال کرتا ہے کہ پینے کی ضرورت ہے، کبھی خیال کرتا ہے کہ سونے کی ضرورت ہے ، کبھی خیال کرتا ہے کہ لیٹنے کی ضرورت ہے، کبھی خیال کرتا ہے کہ ورزش کی ضرورت ہے، کبھی خیال کرتا ہے کہ سیر کی ضرورت ہے، کبھی خیال کرتا ہے کہ نہانے کی ضرورت ہے۔غرض ایک دو درجن دفعہ ضرور وہ اپنے افعال کے متعلق غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ مجھے اپنے جسم کی درستی کے متعلق کیا کرنا چاہیے۔لیکن قوم کی درستی کے متعلق وہ کبھی نہیں سوچتا بلکہ سمجھتا ہے کہ وہ آپ ہی آپ درست ہو جائے گی۔اور اگر وہ کوئی غلط قدم اٹھا لیتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے آپ پر الزام لگائے کہ میں نے قومی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قوم پر میں غصے کا اظہار کر دوں اور عملی طور پر اس کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کروں۔لیکن یہ درست نہیں۔قومی درستی فردی درستی سے زیادہ توجہ چاہتی ہے اور ہر فرد کی توجہ چاہتی ہے۔اگر ہر فرد اس مسئلہ کی طرف توجہ نہیں کرے گا تو بعض حصوں میں نقائص پیدا ہو جائیں گے اور پھر وہ اتنے بڑھ جائیں گے کہ ان کا دور کرنا فرد کے اختیار میں نہیں رہے گا بلکہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کا دور کرنا قوم کے اختیار میں بھی نہیں رہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نظام چلانے کے لیے اسلام نے خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے۔لیکن غلطی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں یہ خلافت ہی کا ذمہ ہے کہ وہ تمام کام کرے۔حالانکہ خلافت ہی کا یہ ذمہ نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی ایک شخص ساری قوم کی اس رنگ میں اصلاح کر سکتا ہے۔جب تک تمام افراد میں یہ روح نہ ہو کہ وہ قوم کی اصلاح کا خیال رکھیں۔اور جب تک تمام افراد اس کی درستی کی طرف توجہ نہ کریں اُس وقت تک اصلاح کا کام کبھی بھی کامیاب طور پر نہیں ہوسکتا۔قومی تعاون ان کاموں کے پورا کرنے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔جب تک قومی تعاون نہ ہو اُس وقت تک اس فرض کو سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ایک فرد تو بات ہی کر سکتا ہے۔پھر بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو فرد کر ہی نہیں سکتا مثلاً میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ