خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 294

$1948 294 خطبات محمود (9) بڑے کارخانے کھولنے کی کسی شخص واحد کو اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ جو بھی کارخانے کھولے جائیں گے اُن میں سب شہریوں کا حصہ ہوگا۔(10) یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کچھ زمین ان لوگوں کو دی جائے گی جو غرباء تھے اور قادیان میں اُن کے مکانات تھے یہ جگہ مفت دی جائے گی۔(11) دکانات بنانے میں ایسا کام جس میں فنی مہارت کی ضرورت نہ ہو باہمی تعاون سے کیا جائے گا اور اپنے ہاتھوں سے کیا جائے گا۔(12) جو قواعد اس بارہ میں حکومت یا سلسلہ کی طرف سے جاری ہوں اُن کی پابندی زمین لینے والوں کے لیے ضروری ہوگی۔پس ایسے دوست جو اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اس لیے مرکز میں مکانات بنانا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر سو روپیہ فی کنال کے حساب سے ہدیہ مالکانہ پچاس روپے اور ابتدائی انتظامات کے لیے پچاس روپے قیمت خزانہ میں جمع کرا دیں تا پہلے گروپ میں وہ شامل کر لیے جائیں۔احمدیت نے بہر حال بڑھنا ہے۔یہاں کی زمینوں کا بھی وہی حال ہو گا جو قادیان کی زمینوں کا ہوا۔یہ جگہ پاکستان کا مرکز رہے گی اور قریب کے مرکزوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔پس جو شخص زمین لینا چاہے انہیں جلدی کرنی چاہیے۔اور یہ امر بھی یادرکھنا چاہیے کہ زمین ٹھیکہ پر دی جائے گی ، دکانیں بنانے کا یا دکان مکان میں کھولنے کا کسی کو اختیار نہ ہوگا بلکہ دکا نہیں سب سلسلہ کی ملکیت ہوں گی۔اور پھر جو زمین لے وہ قواعد کو اچھی طرح سے سمجھ کر لے تا بعد میں اُسے کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔یہ امر ظاہر ہے کہ مرکز سلسلہ کی آبادی انشاء اللہ جلد ترقی کر جائے گی۔اگر دوست چھوٹے چھوٹے مکان تعمیر کر لیں تو وہ خاصے کرایوں پر چڑھ سکیں گے"۔( الفضل 28 ستمبر 1948ء) 1: ولے: (حرف استثناء) مگر لیکن اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 21 صفحہ 382 کراچی 2007ء) 2 : ٹرانس جورڈن: (TRANS-JORDAN) امارۃ شرق الاردن ( 1921ء تا1946ء) 1921ء میں یہ ریاست برطانوی انتظام میں رہی اور 1946ء میں ایک آزاد خود مختار مملکت کے طور پر سامنے آئی۔1951ء میں یہ ریاست با قاعدہ طور پر بادشاہت اردن“ کے نام سے موسوم ہوئی۔