خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 291

$1948 291 خطبات محمود سے کہا کہ آخر آپ نے ہمیں کوئی جگہ دینی ہی ہے اور کہیں بسانا ہی ہے اگر یہ جگہ ہمیں مل جائے تو جتنے ہی احمدی یہاں بس جائیں گے اُن کا بوجھ گورنمنٹ پر نہیں پڑے گا۔قادیان کے باشندوں کو اگر کسی اور جگہ آباد کیا جائے تو انہیں بنی بنائی جگہیں دی جائیں گی لیکن اگر وہ یہاں بس جائیں تو کروڑوں کی جائیداد بچ جائے گی جو دوسرے مہاجرین کو دی جاسکتی ہے۔قادیان میں دو ہزار سے زائد مکانات تھے جن میں بعض پچاس پچاس ہزار کے تھے اور بعض لاکھ دولاکھ کے تھے لیکن اگر پانچ ہزار روپے فی مکان بھی قیمت لگائی جائے تو ایک کروڑ کے مکانات قادیان میں تھے اور یہ قیمت صرف مکانوں کی ہے زمین اس سے الگ ہے۔زمین کی قیمت اُس وقت دس ہزار روپے فی کنال تک پہنچ گئی تھی اور پانچ سو ایکڑ کے قریب زمین مکانوں کے نیچے تھی۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ چالیس ہزار کنال زمین پر مکانات بنے ہوئے تھے۔اگر پانچ ہزار روپیہ فی کنال بھی قیمت لگا دی جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دو کروڑ کی زمین تھی جس پر مکانات بنے ہوئے تھے۔گویا تین کروڑ کے قریب مالیت کے مکانات قادیان والے چھوڑ کر آئے ہیں۔اگر لاہور، لائکپور، سرگودها و غیره اضلاع میں قادیان کے لوگوں کو بسایا جائے تو پھر وہاں زمین اور مکانات کی قیمتیں قادیان کی زمین اور مکانات کی قیمتوں سے بڑھ کر ہوں گی۔اگر احمدیوں کو یہ جگہ دے دی جائے اور وہ وہاں بس جائیں تو قریباً چار کروڑ کی جائیداد بچ جاتی ہے جو دوسرے لوگوں کو دی جاسکتی ہے۔انہوں نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ قاعدہ کے مطابق اسے پہلے گزٹ میں شائع کرنا ہوگا اور وعدہ کیا کہ وہ نومبر یا دسمبر میں اسے شائع کر دیں گے مگر جب جنوری میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم بھول گئے ہیں۔ہم نے کہا یہ آپ کا قصور ہے۔ہمارے آدمی آوارہ پھر رہے ہیں۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا خواہ کچھ بھی ہو بہر حال اسے شائع کرنا ضروری ہے تا معلوم کیا جائے کہ اس زمین کا کوئی دعویدار ہے یا نہیں۔اس کے بعد کہ دیا گیا کہ جب تک کا غذات کمشنر کی معرفت نہ آئیں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ایک مہینہ میں کاغذ کمشنر کے پاس سے ہو کر پہنچے اور اس طرح مارچ کا مہینہ آ گیا۔پھر کہا گیا کہ ان کا غذات پر قیمت کا اندازہ نہیں لکھا گیا اس لیے ہم کوئی کاروائی نہیں کر سکتے۔پھر دوبارہ کا غذات مکمل کر کے بھیجے گئے۔پھر افسر مقررہ نے ایک مہینہ بعد تعمیل کی۔پھر اپریل میں قیمت لگائی گئی۔پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کاغذات منسٹری کے پاس جائیں۔ہم نے کہا کہ یہ کام تو فنانشل کمشنر صاحب خود