خطبات محمود (جلد 29) — Page 227
$1948 227 خطبات محمود گئے ہوں یا وہ روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں۔اسی طرح اگر گزشتہ سالوں میں ان سے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے رہ گئے ہوں تو ان کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں تا خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے پہلے وہ صاف ہو جائیں۔بعض فقہاء کا یہ خیال ہے کہ پچھلے سال کے چھوٹے ہوئے روزے دوسرے سال نہیں رکھے جاسکتے۔لیکن میرے نزدیک اگر کوئی لا علمی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکا تو لاعلمی معاف ہو سکتی ہے۔ہاں اگر اس نے دیدہ دانستہ روزے نہیں رکھے تو پھر اس پر قضا نہیں۔جیسے جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نماز کی قضا نہیں۔لیکن اگر اس نے بھول کر روزے نہیں یا اجتہادی غلطی کی بناء پر اس نے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک وہ دوبارہ رکھ سکتا ہے اور اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ روزے رکھے۔ہاں اگر وہ روزہ رکھ سکتا تھا اور اس نے جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا تو اس پر کوئی قضا نہیں۔وہ جب تو بہ کرے گا اس کے اعمال نئے سرے سے شروع ہوں گے۔لیکن اگر اس نے غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے یا کسی اجتہادی غلطی یا بیماری کی وجہ سے روز۔نہیں رکھے تو میرے نزدیک خواہ وہ روزے کتنی ہی دُور کے ہوں وہ دوبارہ رکھے جاسکتے ہیں۔اس کے بعد میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ رمضان کے مہینہ سے بھی انسان کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔رمضان میں ایک مدت تک مسلسل انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے۔دوسرے دنوں میں اگر وہ چاہے تو متواتر ایک ماہ تک روزے نہیں رکھ سکتا۔ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو رمضان کے علاوہ باقی دنوں میں اتنے روزے رکھ سکتے ہوں کیونکہ کبھی نہ کبھی انسان کو خواہش پیدا ہو ہی جاتی ہے کہ چلو آج فلاں کے گھر دعوت ہے آج روزہ نہیں رکھتے یا آج فلاں کام ہے آج ناغہ کر لیتے ہیں لیکن رمضان میں اگر کوئی روزہ رکھتا جائے تو وہ ایک ماہ تک لگا تار روزے رکھ سکتا ہے۔اسلام رمضان میں روزے چھوڑنے یا توڑنے کی اجازت نہیں دیتا اور اس حکم کی وجہ سے انسان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے اسے وہ طاقت مل جاتی ہے جو اُسے دوسرے دنوں میں نہیں ملتی۔مثلاً اسلام میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ہم پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں اور ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا۔لیکن اگر وہ چار ہوتیں، پانچ نہ ہوتیں تو پانچویں نماز اکثر کے لیے دو بھر ہوتی۔اسی طرح ہم پانچ نمازیں تو پڑھ لیتے ہیں لیکن چھٹی نماز اکثر لوگوں کے لیے دوبھر معلوم ہوتی ہے۔لیکن اگر یہ نمازیں چھ ہوتیں پانچ نہ ہوتیں تو ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہوتے جو انہیں پوری طرح ادا کرتے۔