خطبات محمود (جلد 29) — Page 222
$1948 222 خطبات محمود دوستوں نے میری پہلی تحریک پر عمل کرتے ہوئے 50 فیصدی چندہ دینا شروع کر دیا تھا۔اگر چہ میں نے اسے بعد میں 33 فیصدی کر دیا ہے مگر وہ ابھی تک 50 فیصدی ہی دے رہے ہیں۔ایسے دوستوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جائے گی بلکہ جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہو گا جو ساڑھے سولہ فیصدی سے 33 فیصدی تک چندہ دیتا ہوگا۔اب دیکھو کہ کس طرح ترقی کرتے کرتے جماعت چندہ میں ترقی کر گئی اور ابھی اِنشَاء اللہ اور کرے گی۔اسی طرح جان کی قربانی کے سوال ہی کو لے لو جب میں نے یہ چیز جماعت کے سامنے پیش کی تو جماعت کی یہ حالت تھی كَأَنَّمَا يُسَاقُوْنَ إِلَى الْمَوْتِ 1 گویا وہ موت کی طرف ہنگائے جاتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے بعد جماعت میں جان کی قربانی کی بھی عادت پڑ جائے گی۔موت تو سب سے ہلکی چیز ہے خدا اور اس کے کام کی خاطر اگر کسی کو موت آجاتی ہے تو کیا ہوا یہ خدائی تقدیر ہے جس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔دنیا کے کاموں میں کیا کسی نے گارنٹی دی ہوئی ہے کہ کام کرتے ہوئے اسے موت نہیں آئے گی۔اگر دنیاوی کام کرتے ہوئے وہ مرجائے تو پھر اس کے بچوں کی کون پرورش کرے گا۔لیکن اگر خدا کا کام کرتا ہوا مر جائے گا تو خدا تعالیٰ اس کے لیے کچھ تو غیرت دکھائے گا اور وہ اس کی خاطر کچھ تو کرے گا۔پھر یہ ضروری نہیں کہ وہ مر جائے بسا اوقات انسان زندہ رہتا ہے۔غرض جماعت میں اب بیداری پیدا ہو رہی ہے اور کچھ عرصہ کے بعد جماعت کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے گی کہ وہ جہاد کرنے لگ جائے گی۔پس ہر کام عادت ڈالنے سے ترقی کرتا جاتا ہے۔تبلیغ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا بھی ایک وقت اور محنت چاہتا ہے۔باقاعدہ اس طرف توجہ کی جائے تو ہر شخص اس کام کا عادی ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کہیں کی کہیں جا پہنچے گی۔اس سلسلہ میں جماعت کے مقرر کردہ تبلیغ کے عہدہ داروں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ محنت سے کام کریں۔سونے سے کام نہیں بنے گا۔مجھے یہ علم نہیں کہ یہاں کے سیکرٹری تبلیغ کون ہیں۔ابھی تک وہ مجھ سے نہیں ملے۔اگر وہ مجھ سے ملتے اور اپنے حالات بتاتے تو میں ان کو تبلیغ کے کئی ایک طریقے بتا سکتا تھا جن پر عمل کر کے وہ اس میدان میں کامیاب ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے کوئی پروا نہیں کی۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کی طرف توجہ دیں۔جماعت کے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیکرٹری تبلیغ مقرر کر دیا ہوا ہے جس کا کام ہے کہ وہ تبلیغی کام کرے۔جب وہ سیکرٹری ان سے کہتا ہی نہیں تو وہ ان