خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 212

$1948 212 خطبات محمود ہوتی۔پس تم اپنے اندر ذکر الہی کی عادت پیدا کرو تا خدا سے تمہارا تعلق بڑھ جائے۔تمہارے اندر ہمت پیدا ہو جائے ، تمہاری نظروں میں تاثیر پیدا ہو جائے اور دشمن کے دلوں میں بھی تمہارا رعب بیٹھ جائے کہ دشمن خود بول اٹھے کہ یہ لوگ واقعی روحانیت کے پتلے ہیں۔آخر اس سلسلہ نے غالب آنا ہے اور تھوڑے رہ کر غالب نہیں آنا۔ہماری تعداد زیادہ ہوگی تبھی ہم دنیا پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن جو قدم اس کے لیے تم اٹھا رہے ہو وہ اتنا لمبا ہے کہ اس سے کامیابی مشکل ہے۔خدا ہی ہے کہ کوئی نشان دکھائے تو دکھائے مگر خدا کی بھی یہ سنت ہے کہ وہ ہر جگہ نشان نہیں دکھاتا۔وہ بھی اُس وقت نشان دکھاتا ہے جب قوم ایسی مصیبت میں پڑ جائے کہ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا اُس کے بس کی بات نہ ہو۔پھر اگر وہ نشان دکھا بھی دے تو ہمیں اُس سے کیا فائدہ ؟ لوگوں کا تو گھر بھر جائے گا ہم تو کورے کے کورے ہی رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کی مجلس میں ایک دفعہ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔باتیں ہو رہی تھیں۔وہ کہنے لگے کہ میری بہن نے خواب میں دیکھا ہے کہ وہ جنت میں ہے اور میں (مولوی برہان الدین صاحب مرحوم ) بھی وہاں پھر رہا ہوں اور بیر بیچتا پھرتا ہوں۔اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ مولوی برہان الدین صاحب مرحوم پر اس خواب کا اتنا گہرا اثر تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تعبیر بیان کرنے سے پہلے ہی رو پڑے اور کہنے لگے حضور! مسیح بھی آیا ، ہم نے اُس کا انتظار کیا اور پھر اُس پر ایمان بھی لائے مگر میں تو پھر بھی جھڈو کا جھڈ وہی رہا۔جنت میں گیا بھی ، مگر بیر ہی نیچے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خواب میں بیر بیچنا تو مبارک ہے۔یہ تو نہیں کہ آپ کو اصلی شکل میں ٹوکری پکڑا دی جائے گی۔تو یہ حقیقت ہے کہ لوگ آتے ہیں، سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور نیکی کے اتنے مواقع اُنہیں ملتے ہیں کہ بادشاہت اس کے مقابل پر بیچ ہے۔مگر اتنے مواقع ملنے کے باوجود وہ بقول مولوی برہان الدین صاحب جہلمی مرحوم جھڈو کے جھڈو ہی رہتے ہیں۔پس تمہیں کوشش کرنی چاہیے کہ تم اپنے اندر ذکر الہی کی عادت پیدا کرو اور روحانیت میں ترقی کرو۔رمضان کے مہینہ سے پورا پورا فائدہ حاصل کرو۔موت کا وقت مقرر نہیں۔موت آگئی