خطبات محمود (جلد 29) — Page 204
$1948 204 خطبات محمود ہیں دفعہ جائیں ، دوسو پھیرے ڈالیں اور وہ ہر پھیرے پر کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دے۔ان پھیروں سے بچنے کے لیے اور اس لیے کہ زیادہ وقت ضائع نہ ہو ہم اُس پر اعتبار کر لیتے ہیں اور وہی آمد سمجھ لیتے ہیں جو وہ بتاتا ہے اور اُسی کے مطابق چندہ لے لیتے ہیں۔یہ ساری باتیں ہوسکتی ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا جو عالم الغیب ہے وہ بھی حقیقت کو نہ جانتا ہو۔چندہ کا بدلہ فنانشل سیکرٹری صاحب نے نہیں دینا بلکہ وہ تو اس کے ہزارویں حصہ کا بھی بدلہ نہیں دے سکتے۔فنانشل سیکرٹری صاحب کی آمد زیادہ سے زیادہ دو تین سو ہو گی اور چندہ ہیں تمہیں ہزار ہے اور دس سال میں یہ چندہ لاکھوں تک جا پہنچتا ہے۔بلکہ ناظر بیت المال میں بھی یہ طاقت نہیں کہ وہ چندہ کا بدلہ ادا کر سکے۔صدرانجمن احمد یہ بھی اِس کا بدلہ ادا نہیں کر سکتی۔میں بھی اس کا بدلہ ادا نہیں کر سکتا۔غرض چندے کا بدلہ خدا نے دینا ہے اور خدا کو یہ پتہ ہے کہ اس شخص کی آمد سو تھی چالیس نہیں تھی۔اگر تو اس کا خدا کو بھی پتہ نہیں تب تو ایک حد تک گزارہ ہوسکتا ہے لیکن خدا کو اگر اس کا پتہ ہے اور وہ ہماری سب باتوں کو جانتا ہے تو وہ یقیناً اس کا محاسبہ کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کام بھی کرو احتسا با کرو اور یہ سمجھ کر کرو کہ اس کا بدلہ خدا نے دینا ہے۔اور خدا عالم الغیب ہے تو ہماری کیا حالت ہوگی جب رجسٹر پیش ہوں گے تو ہم نے چالیس میں سے ہیں چندہ لکھایا ہو گا لیکن ہماری وہ آمدن صحیح نہ تھی۔ہماری صحیح آمدن سوتھی اور اس میں سے ہم نے ہیں چندہ دیا۔مگر ایک دوسرے شخص نے جس کی آمدن 80 تھی اُس نے بھی ہیں چندہ دیا اور پچیس فیصدی چندہ دینے کا وعدہ کیا۔دیکھنے والے تو ہمیں مخلص ترین انسان سمجھیں گے اور واہ واہ کریں گے کیونکہ ہم نے چالیس میں سے ہیں چندہ دیا۔اسے کم ایمان والا کہیں گے۔اس کا قصور یہی ہے کہ اس نے سچائی سے کام لیا۔پس اگر سچ بولنا قصور ہے، اگر سچ بولنا جرم ہے، اگر سچ بولنا خطا ہے تو واقعی 80 میں سے ہیں دینے والے میں اخلاص کی کمی ہے۔لیکن اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو اُس نے کی اپنی آمد کو صحیح دکھایا اور 80 میں سے ہیں چندہ دیا۔مگر ہم نے سو میں سے ہیں دیئے اور آمدن کو کم دکھایا اور خدا تعالیٰ کا جرم کیا۔جھوٹ بولنا بھاری گناہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر فرمایا ہے کہ مومن جھوٹ نہیں بولتا۔ایک شخص جھوٹ بول کر اپنی ساری کی ساری نیکی کو ضائع کر دیتا ہے۔دنیا میں بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے گورنمنٹ ایک آدمی کو مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجتی ہے وہ پچاس ہزار رو پیدا اکٹھا کر کے لاتا ہے۔لوگ نادہند تھے اس نے تحقیقا تیں کیں اور روپیہ وصول کر لیا۔اس طرح