خطبات محمود (جلد 29) — Page 151
$1948 151 خطبات محمود تعلق ہے میں تسلیم کرتا ہوں کہ خاوند نے اخلاص کا ثبوت دیا ہے مگر اس نے اپنی بات منوانے کے لیے اور اپنی بیوی کے اعتراض کو رڈ کرنے کے لیے صحیح طریق اختیار نہیں کیا۔اول تو جیسا کہ ہم کہتے ہیں خاوند اور بیوی میں اس قسم کا تعلق نہیں ہو سکتا کہ دونوں کے دماغ ایک طرح کام کریں۔ہو سکتا ہے بیوی کا دماغ اور طرح کام کر رہا ہو اور خاوند کا دماغ اور طرح کام کر رہا ہو۔ہم مجبور نہیں کر سکتے نہ خاوند کو اور نہ بیوی کو کہ وہ ایک طرح کام کریں۔کیونکہ ایسا کرنے کی ہمیں طاقت حاصل نہیں۔ایسا کرنے کی خدا تعالیٰ بھی ہمیں اجازت نہیں دیتا۔پس گو اخلاص کے ماتحت ہی خاوند نے یہ بات کہی مگر میرے نزدیک ایسا کہنا درست نہیں تھا۔عورت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ خاوند سے جزئیات میں اختلاف کرے۔ایک عورت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اصولی امور میں اُس سے اختلاف کرے بلکہ اُسے یہ بھی حق حاصل کی ہے کہ وہ اپنے خاوند سے مذہب میں گلی طور پر اختلاف کرے۔پس یہ طریق درست نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو حکومت کے ذریعہ اپنی بات منوانا چاہیے۔عورت کا دماغ اتنا ہی آزاد ہے جتنا کہ مرد کا دماغ آزاد ہے۔ہم دلیل کے ماتحت تو عورت کو قائل کر سکتے ہیں جس طرح دلیل کے ساتھ مرد کو قائل کر سکتے ہیں لیکن رعب کے ساتھ ہم نہ کسی مرد کو اپنی بات منوا سکتے ہیں اور نہ عورت کو اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ہاں اُسے چپ ضرور کرا سکتے ہیں۔دوسرا حصہ دلیل کا کہ وہ بادشاہ ہیں یہ اُس سے بھی زیادہ کمزور ہے۔اگر بادشاہ سے مراد روحانی بادشاہت کے لیے تو اس اعتراض کے صحیح ہونے کی صورت میں بیوی کا اعتراض اور بھی بڑھ جاتا ہے۔بہر حال میرے نزدیک یہ دونوں طریق اُس کے خاوند نے غلط اختیار کیے ہیں۔اُس کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا بھی غلط تھا اور اسے یہ دلیل دینا کہ وہ بادشاہ ہیں یہ بھی غلط ہے۔اگر واقع میں وہ اعتراض غلط تھا تو اس کو دلیل کے ساتھ غلط ثابت کرنا چاہیے تھا اور اگر اعتراض ضد کی بناء پر تھا تو پھر ڈانٹنے کا کیا مطلب۔" جواب جاہلاں باشد خموشی"۔وہ خاموش ہی ہو جاتا۔اور اگر یہ اعتراض درست تھا تو پھر خاوند کو چاہیے تھا کہ وہ خود یہ اعتراض مجھے پہنچا تا نہ یہ کہ اُس اعتراض پر بیوی کو ڈانٹتا۔ہمیں تو شکایت ہی یہ ہے کہ آجکل مردوں اور عورتوں کا ایمان بھیڑ چال کا رنگ رکھتا ہے۔عورت کی مرتد ہوتی ہے تو ساتھ ہی مرد بھی مرتد ہو جاتا ہے اور مرد ارتداد اختیار کرتا ہے تو ساتھ ہی عورت بھی مرتد ہو جاتی ہے۔یہ کوئی ایمان نہیں۔صحابہ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔اگر کوئی مثال ملتی ہے تو یہ کہ مرد اگر غلط بات کہتا ہے تو بیوی اڑ جاتی ہے اور اگر بیوی غلط بات کہتی ہے تو خاوند اڑ جاتا ہے۔