خطبات محمود (جلد 29) — Page 141
$1948 141 خطبات محمود وہ رونے لگے گا اور کہے گا حکیم ایسے نالائق ہوا کرتے ہیں کہ میرا بیٹا پیاسا مر گیا۔یاکسی شخص کا بچہ مر رہا تھا تو باہر ایک عورت یہ آوازیں دے رہی تھی لے لو مولیاں، لے لوگاجریں۔وہ یہ آواز سنے گا تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دے گا لیکن دوسرے دن جو نہی یہ آواز اُس کے کانوں میں آئے گی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں گے کیونکہ اس آواز سے اُسے یہ واقعہ یاد آ جائے گا کہ کل جب میرا بچہ مر رہا تھا اُس وقت بھی یہی آواز آئی تھی کہ لے لوٹولیاں، لے لو گا جریں۔گویا مولیوں اور گاجروں کی آواز اُسے اپنے بچے کی موت یاد دلا دے گی اور اسے رونا آجائے گا۔غرض ایک شخص کو جس وقت رونا آتا ہے دوسرے شخص کو اُس وقت رونا نہیں آتا۔اور وہ مصیبت زدہ اُس وقت رو لیتا ہے۔لیکن جب سب کے سب لوگ ایک ہی قسم کی مصیبت میں مبتلا ہوں تو اُس وقت رونا بے معنی معلوم ہوتا ہے اور حواس پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ افسوس کرنا کچھ بے حیائی سی معلوم ہوتی ہے کیونکہ انسان سوچتا ہے کہ اگر میں رویا یا میں نے افسوس کیا تو دوسرے لوگ جو میری جیسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور رونہیں رہے، افسوس نہیں کر رہے۔میری نسبت کیا کہیں گے۔اور اسی طرح رونے اور افسوس کرنے کا وقت ٹلتا جاتا ہے۔اسی لیے کہتے ہیں مرگ انبوه جشنی دارد جب اکٹھی مصیبت آتی ہے تو ایک دوسرے کے جذبات اور ایک دوسرے کی کیفیات میں اطمینان اور سہارے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت جو ہمارے ملک پر مصیبت آئی ہے اس سے اربوں ارب کم حصہ پر خون بہائے جاتے ہیں، اس سے اربوں ارب کم حصہ پر تباہیاں واقع ہو جاتی ہیں، اس سے اربوں ارب کم حصہ پر مقدمات ہوتے اور آپس میں لڑائیاں لڑی جاتی ہیں، اس سے اربوں ارب کم حصہ پر سر پھٹول ہو جاتا ہے اور اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر شہروں اور گاؤں اور قصبوں بلکہ ضلعوں تک کے امن بر باد ہو جاتے ہیں۔قصبہ کی ایک عورت اُدھال 1 لی جاتی ہے تو سارے آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بیسیوں دنوں تک تمام علاقہ کا امن جاتا رہتا ہے۔مگر اس وقت پچاس ہزار مسلمان عورت ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہے اور چند ہزار یا کم و بیش سکھ اور ہندو عورت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے مگر اس پر وہ شورش نہیں ، وہ اضطراب اور وہ دکھ نہیں جو صرف ایک عورت کے اغوا پر بر پا ہوا کرتا تھا۔اسی وجہ سے کہ ہر شخص سمجھتا ہے اگر میں نے اپنا دکھ بیان کیا تو لوگ مجھے