خطبات محمود (جلد 29) — Page 89
$1948 89 خطبات محمود آتے رہتے ہیں۔ممکن ہے سال بھر کے بعد ہمیں ڈیڑھ دو ہزار آدمیوں کے لیے جگہ کی ضرورت محسوس ہو۔اور چونکہ موزوں مقام جلدی میسر نہیں آسکتا اس لیے ابھی سے جماعت کو اپنے لیے کوئی اور جگہ تلاش کرنی چاہیے۔اگر وہ جگہ جہاں ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا اُس کے متعلق میری تسلی ہو جائے اور مجھے یہ اطمینان ہو جائے کہ اُس کے متعلق کسی قسم کا اشتباہ پیدا نہیں ہو سکے گا اور یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ہم نے ناجائز طور پر اُس سے فائدہ اٹھایا ہے تو ہو سکتا ہے میں اُس عمارت کو خریدنے کی اجازت دے دوں۔گو اس وقت مجھے شرح صدر نہیں اور میری طبیعت کا رجحان اس طرف ہے کہ ہمیں کوئی اور جگہ تلاش کرنی چاہیے جہاں ایک بڑی مسجد بنائی جا سکے۔مہمان خانہ ہو، لائبریری کی جگہ ہو، اسی طرح دوسری ضروریات کا انتظام ہو۔صدر مقام ہونے کی وجہ سے ضروری ہے کہ کراچی بہت جلد ترقی کر جائے۔جو حال کلکتہ اور دتی کا ہے وہی دس سال کے بعد کراچی کا ہوگا۔اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حالات سے ہم فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔اب سستی جگہیں مل سکتی ہیں۔جماعت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس طرف توجہ کرے تا کہ آئندہ اس کے لیے پریشانی پیدا نہ ہو۔دوسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں نے آج سٹیشن پر دوستوں کو منع کر دیا تھا کہ وہ میرے گلے میں ہار نہ ڈالیں۔یوں بھی ہار پہننے میں مجھے حیا سی محسوس ہوتی ہے۔لیکن اس امر کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی ضرورتوں کو سمجھنے والے افراد کو اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے زمانہ کے مطابق قدم اُٹھانا چاہیے۔ہمارے لیے اس وقت ایک ایسا زمانہ آیا ہوا ہے جس میں ہم اپنے مقدس مقام سے محروم ہیں اور دشمن اُس پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ہار پہننے کے معنے خوشی کی حالت کے ہوتے ہیں۔میں جہاں جماعت کو یہ نصیحت کیا کرتا ہوں کہ اُن کے دلوں میں پژمردگی پیدا نہیں ہونی چاہیے، اُن کے اندر کم ہمتی نہیں ہونی چاہیے، اُن کے اندر پست ہمتی نہیں ہونی چاہیے وہاں میں اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ جماعت اس صدمہ کو بھول جائے اور ایسی غیر طبعی خوشیاں منانے میں محو ہو جائے جن کی وجہ سے وہ ذمہ داری اس کی آنکھ سے اوجھل ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی ہے۔نمائشی باتیں تو یوں بھی نا پسندیدہ ہوتی ہیں مگر کم سے کم اُس وقت تک کے لیے ہمارے نوجوانوں میں یہ احساس زندہ رہنا چاہیے جب تک ہمارا مرکز ہمیں واپس نہیں مل جاتا۔آخر کوئی نہ کوئی چیز ہوگی جس کے ساتھ نو جوانوں کو یہ بات یاد دلائی جاسکے گی۔اگر