خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 88

1948ء 88 خطبات محمود کے لیے استعمال کی جاتی تھی اس لیے اپنے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ہم اُس عمارت میں ٹھہریں تا کہ ہماری وہ دلیل جو ہم قادیان کے متعلق دے مادے رہے ہیں کمزور نہ ہو جائے اور ہمارا وہ اصول نہ ٹوٹے جو مذہبی مقامات کی تقدیس اور ان کے احترام کے متعلق ہم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ بعض دوستوں نے کہا ہے کہ وہ اس عمارت کو خریدنے کا انتظام کر رہے ہیں بلکہ مجھے کہا گیا ہے کہ خود مالک مکان اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ یہ ایک اہم امر ہے اس لیے اس معاملہ میں اگر کوئی قدم مقامی جماعت کی طرف سے اٹھایا جائے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پوری طرح تمام حالات کو میرے سامنے رکھے۔ اگر میری تسلی ہو گئی اور مجھے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نظر نہ آئی تب بھی میرے نزدیک مناسب یہی ہوگا کہ ہم یہ عمارت نہ لیں کیونکہ اپنے اصول کی پابندی ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت اس حادثہ کی وجہ سے جو پیش آیا ہے کراچی میں یکدم بڑھ گئی ہے یا تو جمعہ میں سو سوا سو لوگ آیا کرتے تھے اور وہ بھی میرے آنے پر ۔ اور یا اب کہتے ہیں کہ پانچ چھ سو تک جماعت کے مردوں کی تعداد پہنچ چکی ہے اور عورتیں بھی چار پانچ سو کے قریب ہیں ۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ جماعت کوئی ایسی جگہ لے جس میں وہ اپنی مسجد بنائے ، لائبریری بنائے اور دوسری ضرورتوں کو پورا کرے۔ میں جب گزشتہ سال یہاں آیا تھا تو میں نے مختلف جگہیں دیکھی تھیں اور ایک جگہ میں نے پسند بھی کی تھی جو قریباً چھ کنال یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور جس میں تمام ضرورتیں پوری کی جا سکتی تھیں مگر اُس وقت جماعت کا رجحان اس طرف تھا کہ بندر روڈ کے قریب ملنی چاہیے۔ چنانچہ وہ جگہ رہ گئی اور لوکل انجمن احمدیہ نے بندر روڈ کے قریب 480 گز زمین اکتیس ہزار روپیہ میں خرید لی مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ اس میں بھی زیادہ سے زیادہ تین سوا تین سو آدمی آسکتے ہیں حالانکہ ہماری جماعت کے افراد یہاں پانچ چھ سو ہیں۔ پھر پانچ سو کے قریب عورتیں ہیں اور اُن کا بھی مسجد میں آنا ضروری ہے۔ ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کوئی نئی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ موجودہ جگہ ایسی ہے جس میں ایک ہزار آدمی کے سمانے کی کوئی صورت نہیں بلکہ اگر یہاں دو منزلہ عمارت بنائی جائے تب بھی چھ سات سو آدمی آ سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ حالانکہ ہماری جماعت کے افراد اس وقت کراچی میں ایک ہزار کے قریب ہیں اور پھر آدمی بڑھتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مہمان بھی وقتاً فوقتاً