خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 82

$1948 82 خطبات محمود ایسی ہی ہے جیسے تم سڑا ہوا کھانا کھا رہے ہو۔اگر سڑا ہوا کھانا کوئی شخص تمہارے سامنے کھائے تو تم اُسے پاگل قرار دو گے۔مگر تم کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ تم بھی سڑا ہوا ایمان رکھتے ہو اور پھر یہ دعوی کرتے ہو کہ تم مومن ہو، یہ دعوی کرتے ہو کہ تم ایماندار ہو۔میں نے بتایا کہ ہر نام کے اندر کچھ کیفیتیں ہوتی ہیں اور جب کسی چیز کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو ہمیشہ اس کی اچھی کیفیتوں کی وجہ سے وہ نام رکھا جاتا ہے۔جب وہ کیفیتیں کسی میں پائی جائیں تب تو بے شک وہ نام اُس کے لیے موزوں ہوتا ہے لیکن اگر وہ کیفیتیں نہ پائی جائیں تو محض نام کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔جب تک تم اس طرح اپنے ایمان کے متعلق سوچنے اور غور کرنے کی عادت پیدا نہیں کرو گے اُس وقت تک یہ خطرہ ہے کہ تم دھوکا کی حالت میں ہی مر جاؤ۔تم یہ سمجھتے رہو کہ ہمارے اندر ایمان پایا جاتا ہے لیکن جب تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو تو تمہیں معلوم ہو کہ تم بے ایمان ہو۔یاد رکھو محض نام سے کوئی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی۔اگر سڑے ہوئے آم لے کر کوئی شخص بیچنے لگ جائے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ آم بیچنے والا ہے بلکہ لوگ کہیں گے کہ یہ نجاست بیچتا ہے۔اُسے تو یہ آم روڑی پر پھینک دینے چاہیں تھے مگر یہ ان آموں کو فروخت کر رہا ہے۔اسی طرح اگر سڑے ہوئے خربوزے کوئی شخص بیچتا ہے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ خربوزوں کی تجارت کرتا ہے۔اگر کوئی شخص گدڑیاں بیچنی شروع کر دے یا میلے کے ڈھیروں پر سے دھجیاں 2ے اٹھائے اور فروخت کرنے لگے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ بزاز 3 ہے یا اگر کوئی شخص سڑا ہوا کھانا اٹھا کر باہر پھینکتا ہے اور دوسرا شخص باہر جا کر اُس کھانے کو اُٹھا کر تھالی میں ڈال لیتا ہے اور اس کے فروخت کرنے کے لیے اُس کی پھیری شروع کر دیتا ہے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ وہ باورچی ہے۔مگر جو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے لوگ اُس کے متعلق اس قسم کی حرکت کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے دعوای ایمان میں بالکل سچے ہیں۔در حقیقت تمہارا خدا سے ایسا ہی معاملہ ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک ملاں کے پاس ایک دن ایک لڑکا آیا اور کہنے لگا میری اماں نے یہ کھیر آپ کے لیے بھجوائی ہے۔ملاں نے کہا یہ بات کیا ہے کہ تمہاری اماں نے آج کھیر بھجوا دی۔پہلے تو کبھی اس کا خیال بھی اُسے نہیں آیا۔لڑکے نے جواب دیا کہ کھیر میں کتنا منہ ڈال گیا تھا میری ماں نے کہا کہ ملاں جی کو دے آؤ۔ملاں کو غصہ آیا اور اُس نے کھیر کا برتن اُٹھا کر زمین پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گیا۔اس پر لڑ کا رونے لگا۔ملاں نے کہا تو روتا کیوں ہے؟