خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 69

1948ء 69 خطبات محمود ہیں اور تھوڑی بہت غیرت جو اُن میں باقی تھی وہ بھی جاتی رہی ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی اور اُن کی تباہی کی کتنی بڑی علامت ہے کہ جب خدا کی طرف سے اُن کو مار پڑی تب بھی اُن کو ہوش نہ آیا اور جب خدا نے اُن پر فضل نازل کیا اور ان کی مصیبتوں اور بلاؤں کو ہٹایا تب بھی اُن کو ہوش نہ آیا۔ دنیا میں سمجھانے کے دو ہی طریق ہوا کرتے ہیں یا تو کوئی شخص پیار سے سمجھاتا ہے یا سزا اور تعذیب سے سمجھاتا ہے مگر مسلمان نہ پیار سے سمجھے نہ بلاء سے اور نہ عذاب سے سمجھے۔ ایسے لوگوں کو سوائے تباہی کے اور حاصل ہی کیا ہو سکتا ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو یا تو مسلمان شدھ ہو کر ہندو بن جائیں گے اور یا پھر قتل کر دیئے جائیں گے۔ شدھ ہونے کی حالت میں اُن کی جانیں بے شک بیچ جائیں گی مگر چوڑھوں اور چماروں کا کام اُن کے سپرد ہو جائے گا کیونکہ چوڑھوں اور چماروں میں اب بیداری پیدا ہو رہی ہے اور وہ اپنی پہلی حالت کو ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے دوہی صورتیں ہیں۔ جن میں غیرت ہوگی وہ تو مارے جائیں گے اور اُن کی عورتیں اور بچے بھی اغوا کر لیے جائیں گے۔ اور جن میں غیرت نہیں ہوگی اور ایمانی لحاظ سے کمزور ہوں گے وہ چوڑھوں اور چماروں اور سانسیوں کی جگہ کھڑے کر دیئے جائیں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ اب تم یہ کام کرو کیونکہ یہ تو میں اب بیدار ہو چکی ہیں۔ اس کے سوا مجھے اور کوئی مستقبل مسلمانوں کا کا نظر نظر نہیں نہا آتا۔ مگر مسلمان ہے کہ اپنی موجودہ حالت پر بالکل مطمئن بیٹھا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جب کوئی مصیبت کا وقت آیا تو خدا خود سب کام کرے گا۔ ہمیں ہاتھ پاؤں ہلانے یا اپنے لیے کوئی تدبیر سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ خدا نے اگر اس رنگ میں اُن کی مدد کرنی ہوتی تو پہلے کیوں نہ کر دیتا۔ پچھلے دنوں پانچ چھ لاکھ مسلمان مارا گیا ہے اور ساٹھ ستر ہزار مسلمان عورتیں اس وقت بھی ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہیں۔ اصل میں تو یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی مگر اب بھی ستر ہزار کے قریب مسلمان عورتیں سکھوں کے قبضہ میں ہیں اور وہ ان سے بدکاریاں کر رہے ہیں ۔ مگر مسلمان کے قبضہ میںہیں اور ان سے بدکاریاں کر ہیں۔ مگرم اور ہیں کہ آرام سے بیٹھے ہیں اور کبھی ایک جگہ بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں اور کبھی دوسری جگہ بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں۔ اُن کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ آخر یہ ہوا کیا ہے۔ کسی کی بیوی سکھوں کے قبضہ میں ہے، کسی کی بہن سکھوں کے قبضہ میں ہے اور کسی کی ماں سکھوں کے قبضہ میں ہے اور وہ دن رات سکھوں سے بدکاریاں کروارہی ہیں مگر یہ بے شرم آرام سے کبھی ادھر چلے جاتے ہیں اور کبھی اُدھر چلے