خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 67

$1948 67 خطبات محمود مگر حکومت اب تک جواب ہی دینے میں نہیں آتی۔دنیا کی تاریخ میں اتنے لوگوں کی جبری ہجرت کا آج تک کوئی نمونہ نہیں ملتا۔زیادہ سے زیادہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ یا دو تین لاکھ لوگوں کی ہجرت کا ثبوت ملتا ہے۔بڑی سے بڑی مثال لرکی اور یونان کی ہجرت کی ہے مگر اُس میں بھی ہجرت کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں لاکھ بیان کی جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں صرف پنجاب کی ہجرت ایک کروڑ افراد کی ہے اور باقی علاقے اس کے علاوہ ہیں۔اگر سارے ہندوستان کی مجموعی تعداد دیکھی جائے تو ڈیڑھ کروڑ افراد تک یہ تعداد پہنچ جاتی ہے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اتنی بڑی مصیبت کے باوجود مسلمانوں کی سستی ابھی دور نہیں ہوئی۔وہ اُسی طرح رہ رہے اور اُسی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں جس طرح اس حادثہ سے پہلے زندگی بسر کرتے تھے۔اُن میں اب جس ہی نہیں کہ خدا نے اُن کو کی جو چوٹ لگائی ہے اس کے بعد انہیں اپنی زندگی بدل لینی چاہیے اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنا چاہیے۔دنیا کے اور ممالک بھی ہیں مگر اُن میں سے کسی ملک کے لوگوں میں بھی اتنی سستی اور غفلت نہیں پائی جاتی جتنی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔اور اُن میں سے ہر شخص سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی مفید طور پر بسر کرنی ہے۔اُن میں سے ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ اُس کا وجو د لو گوں کے لیے نفع رساں ہو۔مگر ہم میں سے ہر شخص اُسی طرح زندگی بسر کرتا ہے جس طرح دریا میں ایک کارک یا لکڑی پھینک دی جائے تو وہ ہوا کے زور سے کبھی ادھر چلی آتی ہے اور کبھی اُدھر چلی جاتی ہے، کبھی دریا کے کنارے پر آ لگتی ہے اور کبھی اُس کی لہروں میں غائب ہو جاتی ہے۔نہ اُن میں عقل ہے نہ خرد ہے، نہ محنت سے کام کرنے کی عادت ہے نہ وقت پر کام کرتے ہیں، نہ عمدگی اور نفاست سے کام سرانجام دیتے ہیں نہ کوشش اور جدوجہد سے کام لیتے ہیں۔سستی اور غفلت اور نحوست اُن کے ہر کام میں نظر آ رہی ہے اور وہ اپنی زندگی اس طرح گزار رہے ہیں جس طرح کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔پھر اس بے حیائی کو دیکھو کہ مسلمان اپنے گھروں سے نکالے گئے، اپنی جائیدادوں سے بے دخل کیے گئے ، اپنے مال و املاک سے محروم کیسے گئے مگر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ اس تلخ گھونٹ کو پی کر خاموش ہو گئے ہیں اور اب اُن کے دلوں میں یہ غیرت بھی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ پھر اپنی جائیدادوں کو حاصل کریں اور پھر اپنے وطنوں کو واپس لوٹیں۔یورپ میں کسی قوم کا اگر ایک آدمی بھی مارا جائے تو سارے ملک میں اُس وقت تک آگ لگی رہتی ہے جب تک اُس کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔بے شک