خطبات محمود (جلد 29) — Page 58
1948ء 58 خطبات محمود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور یقین کے ساتھ یہ حیرت انگیز محبت ایک طرف تھی اور دوسری طرف وہ محبت کھڑی دیکھ رہی تھی جو ابو طالب کو اپنے بھتیجے کے ساتھ تھی۔ ابو طالب اُس وقت ان دو محبتوں کے درمیان آگئے ۔ ایک طرف اُن کا بیٹا تھا۔ یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کے بھتیجے تھے مگر ابو طالب نے اپنے بیٹوں سے بڑھ کر آپ سے محبت کی اور اپنے بیٹوں سے زیادہ غور و پرداخت کے ساتھ آپ کو پالا ۔ پس ایک طرف وہ محبت کھڑی تھی جو ابو طالب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور دوسری طرف بھتیجے کا یہ یقین اور ایمان تھا کہ میں نے جس صداقت کو قبول کیا ہے میں اُسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ اُن کی ایک آنکھ کے سامنے بیک وقت یہ دو محبتیں آکر کھڑی ہو گئیں اور دوسری آنکھ کے سامنے اُن کے باپ عبد المطلب کی روح آ کر کھڑی ہو گئی جنہوں نے مرتے وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ابو طالب کے ہاتھ میں یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ ابو طالب ! اس کا باپ فوت ہو گیا ہے، اس کی ماں بھی فوت ہوگئی ہے۔ میں نے اس کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھ کر پالا ہے۔ اب میں مرنے لگا ہوں اور مجھ کو تجھ پر اعتبار ہے کہ تو اس کام میں سستی اور کو تا ہی نہیں کرے گا۔ میں اپنی سب سے زیادہ قیمتی امانت تیرے سپرد کرتا ہوں ۔ غرض باپ کی روح ایک طرف کھڑی تھی اور صداقت کے فدائی اور سچائی پر جان دینے والے بیٹے کی روح دوسری طرف کھڑی تھی ۔ باوجود اسلام نہ لانے کے ابوطالب ان دو محبتوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور اُنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا اے میرے بیٹے ! جاؤ اور جس چیز کو سچا سمجھتے ہو اُس کو پھیلاؤ۔ قوم کا مذہب تو میں چھوڑ نہیں سکتا لیکن اگر تیری خاطر قوم مجھے چھوڑ دے تو میں تیرے لیے یہ قربانی بھی کروں گا اور ہمیشہ تیرا ساتھ دوں گا۔ 2 تب قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ بنو ہاشم کا مقاطعہ کیا جائے۔ اس اعلان پر بنو ہاشم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ایک وادی میں جو ابو طالب کی ملکیت میں تھی چلے گئے ۔ وادی سے مراد کوئی سرسبز و شاداب مربع یا وسیع زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مکہ میں بے پانی اور بے سبزی کے وادیاں ہوا کرتی ہیں۔ گویا بے آب و گیاہ زمین کے کچھ ٹکڑے ہوتے ہیں لیکن چونکہ اُن میں کوئی کوئی جھاڑی بھی پائی جاتی ہے جس میں اونٹ وغیرہ چر لیتے ہیں اس لیے انہیں وادی کہہ دیا جاتا ہے۔ مکہ کے پاس ایک ایسی ہی وادی ابوطالب کی تھی۔ ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اور اُن چند مسلمانوں کو لے کر جو اُس وقت مکہ میں تھے اُس وادی میں چلے گئے ۔ جب وہ اُس وادی میں