خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 57

$1948 57 خطبات محمود تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نہیں چھوڑے گا اور اُس کی حمایت بدستور کرتا چلا جائے گا تو ہم تیری ہی سرداری سے بھی انکار کر دیں گے۔ابوطالب ایک غریب آدمی تھے مگر وہ سارا وقت اپنی قوم کی خدمت میں لگاتے تھے اس لیے اُن کی ساری جائیداد ہی قوم کی محبت تھی۔دنیا میں کچھ لوگ کمانے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ قوم کی خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔کمانے والے اپنا بدلہ روپیہ کی صورت میں لے لیتے ہیں مگر خدمت کرنے والے اپنا بدلہ قوم کی محبت کی صورت میں لیتے ہیں۔ابوطالب چونکہ دن رات اپنی قوم کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اس لیے اُن کی ساری کمائی ہی یہی تھی کہ وہ قوم کی خدمت کرتے تھے اور قوم انہیں سلام کرتی تھی۔اس لیے جب قوم کی طرف سے انہیں یہ نوٹس ملا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! میری قوم آج کہہ رہی ہے کہ اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نہیں چھوڑ سکتا تو پھر ہم بھی تجھ کو چھوڑ دیں گے۔اُس وقت یہ خیال کر کے کہ ساری عمر میں نے اپنی قوم کی خدمت میں لگا دی تھی مگر آج بڑھاپے میں آکر وہی قوم مجھے چھوڑنے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔حضرت ابوطالب پر رقت طاری ہوئی اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ دیکھ کر کہ میرے چا با وجود اس کے کہ مسلمان نہیں ہمیشہ میری خدمت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ انہوں نے میری تائید کی ہے اور اب میری خدمت اور میری تائید کی وجہ سے ان کی ایک ہی قیمتی دولت جو ان کے پاس تھی یعنی قوم میں عزت وہ کھوئی جانے لگی ہے رقت طاری ہو گئی۔آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اے چچا! جو پیغام میں لایا ہوں وہ خدا نے میرے سپرد کیا ہے۔ایسا نہیں کہ کسی کے کہنے پر میں اُسے چھوڑ دوں۔اے میرے چا! میں جانتا ہوں کہ خدا ایک ہے لیکن میں اپنی قوم کی خاطر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا ایک نہیں۔اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دے اور اتنا بڑا نشان دکھائے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اور پھر کہے کہ اب بھی یہ مان جاؤ کہ دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک نہیں تب بھی میں ایسا نہیں کر سکتا۔اے میرے چا! میں آپ سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ آپ میری خاطر اتنی بڑی قربانی کریں۔آپ نے جو خدمت کی ہے میں اُس کا ممنون ہوں لیکن آئندہ کے لیے میں یہ بوجھ آپ پر ڈالنا نہیں چاہتا۔آپ بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں نے اپنے بھتیجے کو چھوڑ دیا ہے اور اب میں تمہارے ساتھ ہوں۔