خطبات محمود (جلد 29) — Page 42
$1948 42 خطبات محمود تبرکات مصنوعی یا بچے بھی رکھے ہوئے ہیں۔کشمیری لوگوں کی عادت ہے کہ جب لَا إِلهَ إِلَّا الله کے نعرے سے کچھ نہ بنے تو وہ سمجھتے ہیں اس کے بعد زیادہ زور کا نعرہ شیخ ہمدان کا ہے۔چنانچہ انہوں نے یا شیخ ہمدان کہہ کر زور لگانا شروع کیا مگر جب پھر بھی کام نہ چلا تو ایک عورت اور باقی بچے بھی نیچے اتر آئے۔ایک عورت جو بانس سے زور لگا رہی تھی وہ اندر رہی۔اس طرح دو اور عورتیں بھی اندر بیٹھی رہیں مگر پھر بھی کشتی نہ ہلی۔جب پھر بھی کشتی نہ ہلی تو انہوں نے دستور کے مطابق اپنے سب سے بڑے دیوتا کو پکارنا شروع کیا یعنی انہوں نے یا پیر دستگیر کا نعرہ لگایا۔جب اُنہوں نے پیر دستگیر کا نعرہ لگایا تو میں نے دیکھا کہ سوائے اُس عورت کے جو بانس سے زور لگارہی تھی اور کشتی کا رخ سیدھا کر رہی تھی باقی سب کے سب نیچے کود گئے اور دیوانہ وار ا نہوں نے زور لگانا شروع کیا اور وہ کشتی کو نکال کر لے گئے۔جہاں تک کشمیری اخلاق کا تعلق ہے میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت سب سے کم ہے۔خدا سے بڑے ان کے نزدیک شیخ ہدان ہیں۔اور شیخ ہمدان سے بڑے ان کے نزدیک پیر دستگیر ہیں۔لیکن جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ جس ذات کو وہ عزیز سمجھتے ہیں اُس کی بے عزتی کو برداشت نہیں کر سکتے اور اُس کے نام پر وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔اُن کا عمل در حقیقت ایک سبق تھا جو میں نے سیکھا اور جس کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا۔میں نے کہا یہ لوگ اسلام سے اچھی طرح واقف نہیں۔ان لوگوں کے دلوں میں وہ روح نہیں جو قرآن اور اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کو بھی مانتے ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مانتے ہیں لیکن خدا سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا شیخ ہمدان کو سمجھتے ہیں اور شیخ ہمدان سے بڑا پیر دستگیر کو سمجھتے ہیں۔مگر ایک چیز جو تمام انسانوں میں مشترک ہے اُن میں بھی پائی جاتی ہے۔اور وہ یہ کہ جس چیز سے محبت کامل ہو اُس کے نام پر بٹہ لگنے نہیں دینا چاہیے۔مانا کہ وہ خدا اور رسول سے شیخ ہمدان کو بڑا سمجھتے ہیں اور شیخ ہمدان سے پیر دستگیر کو بڑا سمجھتے ہیں مگر بہر حال جس کو وہ بڑا سمجھتے ہیں اُس کے نام کو بے عزتی سے بچانے کے لیے وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جو پانچ چھ سال کے تھے پیر دستگیر کا نام آنے پر میں نے دیکھا کہ اُن کے چہرے سُرخ ہو گئے۔اُن کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے بھی زور لگانا شروع کر دیا اور سمجھ لیا کہ پیر دستگیر کا نام آنے کے بعد ہماری کوشش بے کار نہیں جانی چاہیے کیونکہ اس سے پیر دستگیر کے نام پر دھبہ آئے گا۔اُن کا عقیدہ غلط