خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 38

$1948 38 خطبات محمود تقوی اختیار کریں گے تو انہیں دوسروں کی نسبت دُہرا ثواب ملے گا اور اگر وہ اس کے برعکس کریں گے تو انہیں دوسروں کی نسبت عذاب بھی دُہرا ملے گا۔پس میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کامیابی کا گر وہی ہوگا جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے اپنایا تھا۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فقیروں کی طرح گزارہ کیا جائے وہ بھی غلطی پر ہیں۔اسلام میں افراط و تفریط دونوں نا جائز ہیں۔مومن کا کام یہ ہونا چاہیے کہ جہاں اُسے خدا تعالیٰ رکھنا چاہے وہاں رہے۔اس لیے نہ تو میں افراط کا قائل ہوں نہ تفریط کا۔اور نہ ہی انبیاء کی جماعتوں میں ان دونوں حالتوں کی کوئی گنجائش ہوتی ہے۔نہ اسلام نے رہبانیت کی اجازت دی ہے اور نہ ہی تعیش کی اور خالص دنیا داری کی اجازت دی ہے۔وہ حد بھی کاٹی گئی ہے اور یہ حد بھی کائی گئی ہے۔اسلام کا رستہ اِن دونوں حدود کے درمیان ہے۔پس انبیاء کی جماعتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ درمیانی راستہ اختیار کریں اور دین کے کاموں میں لگے ر ہیں۔ہاں اپنے فارغ اوقات میں دوسرے دنیوی کام بھی بے شک کریں مگر دین کے کاموں کو مقدم رکھیں۔اور دین کا کام کرنے کے بعد اگر وہ کوئی دنیا کا کام کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے نو جوانوں کو روپیہ میسر آ جائے تو وہ خود دین کے کام کریں اور روپیہ کسی دوسرے آدمی کو دے کر اُسے دکان وغیرہ کھلوا دیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسا کرنا اسلامی اصول کے خلاف نہیں ہے بشرطیکہ وہ آمد کو خدا کی سمجھیں اور اسے خدا کے دین اور اُس کے بندوں کی بہبودی کے لیے خرچ کریں۔اسلامی اصول کے خلاف جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ وہ محض دنیا دار بن کر رہ جائیں۔یوں تو میں خود بھی زمیندار ہوں اور زمینداری کا سارا انتظام بھی کرتا ہوں مگر دین کے کام کرنے کے بعد اپنے فارغ اوقات میں کرتا ہوں۔ایک انسان چودہ یا پندرہ گھنٹے دین کا کام کرنے کے باوجود پاخانہ پیشاب کے لیے روزانہ اپنا وقت فارغ کر سکتا ہے تو دس منٹ زمینداری کے لیے کیوں فارغ نہیں کر سکتا۔بہر حال میں دین کا کام بھی کرتا ہوں اور زمینداری کے کاموں کے لیے بھی تھوڑا بہت وقت نکال لیتا ہوں۔مگر اپنی زندگی کو محض دنیا کے کاموں میں لگا دینا ہر گز اُس مقام کے شایانِ شان نہیں ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فر مایا ہے۔