خطبات محمود (جلد 29) — Page 445
1948ء 445 خطبات محمود نہیں بلکہ ظاہر امر ہے اور بظاہر پورا ہو کر باطنی دعوای کی بھی تصدیق کر دیتا ہے۔ پس اس پیشگوئی کو مبہم نہیں کہا جا سکتا ۔ میری اس خواب میں بھی ایسی ہی خبر ہے۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ خواب ایک ۔ میں اور بے ثبوت بات کو پیش کرتی ہے کیونکہ اس میں اس معترض کے ہارنے کی بہر حال خبر موجود ہے اور اگر یہ بات پوری ہوئی اور ضرور پوری ہو گی تو اگر اسے تو بہ کی زندگی ہی میسر نہ ہوئی تو ضرور موت کے وقت ہوگی تو اُسے شرمندگی اور ندامت ہو گی جس طرح فرعون کو ہوئی اور زندگی کی شکست موت کی توبہ کی دلیل ہوگی ۔ غرض تو بہ تو ایک ضمنی چیز ہے مگر یہ یقینی اور قطعی ہے کہ وہ ناکام رہے گا اور شکست کھائے گا اور اپنی اس شکست کو اپنی زندگی میں دیکھ لے گا۔ پس اس وجہ سے بھی میں نے سمجھا کہ میں اس میں دخل دے کر خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کو مشتبہ نہ کردوں ۔ یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میں خاموش رہا ہوں اور میں مجبور ہوں ۔ میں نے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اس سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا ۔ وہ جس طرح چاہے کرے اور جو چاہے کرے خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ذلیل ہو گا اور میں اس پیشگوئی کو اپنی تدبیر سے مشتبہ نہیں کرنا یک صورت ہے کہ اگر وہ شخص اور اس کے ساتھی کوئی ایسا دعوی کریں جس کی وجہ سے میری خاموشی لوگوں کے لیے ٹھوکر کا موجب بننے لگے تو پھر حالات کی مجبوری کی وجہ سے اس شخص اور اس کے ہتا۔ ساتھیوں کے جماعت سے خارج ہونے کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد میں دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے اختر صاحب کی لڑکی فوت ہو گئی ہے نماز جمعہ کے بعد میں اُس کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ اختر صاحب کے لیے یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اُن کی ایک لڑکی پہلے بھی بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے فوت ہو گئی ہے اور اب یہ لڑکی بھی بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے فوت ہوئی ہے۔ اس کی جسمانی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں اور یونانی اطباء اسے بیماری تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی روحانی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ بسا اوقات صرف جسمانی وجوہ ہی ہوتی ہیں لیکن مومن کو چاہیے کہ اوقات صرف جسمانی وجوہ ہی ہوئی ہیں تین موم وہ ہر حالت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ رکھے۔ ایک واقعہ لکھا ہے کہ کوئی بزرگ کہیں جا رہے تھے کہ اُن کا گھوڑا ایک جگہ پر رک گیا ۔ اس پر وہ استغفار کرنے لگے ۔ اُن سے کسی نے پوچھا آپ گھوڑے کے رُک جانے پر استغفار کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا گھوڑا میری ملکیت ہے اگر وہ چیز جو میری ملکیت ہے میرے سامنے رکتی ہے اور میری اطاعت نہیں کرتی تو میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بھی اپنے