خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 444

1948ء 444 خطبات محمود کبھی لڑائی ہو گئی یا جھگڑا ہو گیا اور تو کوئی بات نہیں۔ میں نے اُسے کہا کہ میں نے اس کے متعلق یہ رویا دیکھا ہے اور اس کے متعلق ڈر رہا ہوں کہ کہیں اُس کے لیے کوئی ٹھوکر والی بات پیدا نہ ہو جائے ۔ اس چار سال کے عرصہ میں اُسے کئی مواقع اپنے اخلاص کو ظاہر کرنے کے ملے اور بظاہر یہ نظر آتا تھا کہ وہ اخلاص میں بڑھتا چلا جائے گا اور دین میں ترقی کر جائے گا۔ اگر اُسے ٹھوکر نہ لگتی تو میرے لیے یہ امر پریشانی کا موجب ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے متعلق مجھے کہا تھا کہ وہ مرتد ہو جائے گا۔ پس اُس کا مرتد ہو جانا میرے لیے تعجب کی بات نہیں ۔ میرے لیے تعجب کی بات اُس وقت ہوتی جب وہ مرتد نہ ہوتا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ نادم اور ذلیل ہو گا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس پیشگوئی میں بھی خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور اسے مشتبہ نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے رویا میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا ہے اور معافی مانگ رہا ہے اور اس نے صرف معانی ہی نہیں مانگی بلکہ وہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے جیسے وہ زبردستی معافی لینا چاہتا ہے۔ آخر میں نے اُسے کہہ دیا کہ جاؤ میں نے معافی دے دی۔ پھر اُس نے کہا کہ میرے گھر بھی چلو تا میری بیوی کی بھی دلجوئی ہو جائے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ اُسے ایک دن ندامت ہوگی ۔ وہ کب ہو گی اور کس وقت ہوگی یہ خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اسے ندامت ہوئی ہے خواہ وہ موت کے وقت کی ہی ندامت کیوں نہ ہو جیسے فرعون کی ندامت ۔ بہر حال میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ندامت کب ہو گی مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ وہ شکست کھائے گا کیونکہ اگر وہ جیت جائے تو پھر ندامت نہیں ہو سکتی ۔ یہ خواب ظاہر کرتی ہے کہ وہ موت کے وقت یا زندگی میں ہی ضرور نادم ہوگا۔ کہا جا سکتا ہے کہ موت کے وقت کی ندامت کا پتہ کیسے لگ سکتا ہے جیسے مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق کہا گیا کہ مرتے ہوئے ندامت کے اظہار کا دعوی تو ہر شخص کر سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ندامت کا اظہار وہی کر سکتا ہے جسے شکست ہو۔ پس جب کسی کے سکتا موت کے وقت تو بہ کرنے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی ضمنی دعوی یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنی مخالفت میں ناکام رہے گا۔ اگر وہ فی الواقع ناکام رہے تو موت کے وقت تو یہ ایک طبعی امر ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر وہ ناکام نہ ہو تو تو بہ کا دعوی کرنے والا ایک غیر معقول دعوی کرتا ہے جسے رڈ کیا جائے گا۔ پس اس پیشگوئی میں اس شخص کے ہارنے کی پیشگوئی شامل ہوتی ہے اور ہار نا دل کی بات