خطبات محمود (جلد 29) — Page 33
1948ء 33 خطبات محمود اور چل پڑا۔ میں نے خیال کیا کہ میں خود اس رجسٹر کے متعلق کچھ جانتا نہیں اور یہ رجسٹر والدہ صاحبہ کے سپرد کرنا اور کہنا کہ آپ یہ انتظام سنبھالیں یہ بھی نامردی ہے۔ یہی سوچ و بچار کرتا ہوا میں تشحیذ الا ذہان کے دفتر میں چلا گیا۔ قاضی اکمل صاحب وہاں بیٹھے کام کر رہے تھے۔ میں اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ رجسٹر وہاں میرے ہاتھ میں تھا مگر مجھے اتنا بھی علم نہ تھا کہ ساری جائیداد کی قیمت ایک پیسہ ہے یا ایک لاکھ روپیہ ہے، اس کی آمد ایک آنہ ہے یا ایک ہزار روپیہ ہے یا دس ہزار روپیہ ہے۔ میں گھبراہٹ کی حالت میں بیٹھا ہوا اُس انتظام کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے دس یا پندرہ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک شخص دفتر میں آیا اور آتے ہی کہنے لگا میں نے سنا ہے کہ آپ کو اپنی زمینوں کے انتظام کے لیے ایک آدمی کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا ضرورت تو ہے۔ مگر یہ کہتے وقت میں نے خیال کیا کہ ضرورت تو بے شک ہے مگر اس کی تنخواہ کہاں سے آئے گی ؟ چنانچہ میں نے پھر اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ضرورت تو ہمیں ایک آدمی کی ضرور ہے مگر اُس کی تنخواہ کا معاملہ ابھی تک زیر غور ہے۔ اس کے متعلق جب تک سوچ نہ لیا جائے کسی آدمی کو مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ اُس نے کہا آپ جو چاہیں مجھے دے دیں منظور ہوگا۔ ( مجھے جو چاہیں دے دیں، دے دیں، کے الفاظ سے بچپن کے زمانہ سے چڑ ہے اور اگر سودا خریدتے وقت کوئی دکاندار مجھ سے کہہ دیا کرتا تھا کہ جو چاہیں دے دیں تو مجھے بہت برا محسوس ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ میں نے اُن سے کہا آپ مجھے اپنا مطالبہ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا دس روپے ماہوار دے دیا کریں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر ہماری واقعی زمین ہے اور اس کی آمد بھی ہوتی ہے تو دس روپے تو ضرور آہی جاتے ہوں گے۔ یہ سوچ کر میں نے رجسٹر اُسی وقت اُن کے ہاتھ میں مجھے دے دیا۔ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب قرآن کریم کے ترجمہ کا کام ہم نے شروع کرنا چاہا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کے اخراجات کے لیے روپیہ کہاں سے آئے گا۔ میں الفضل کے دفتر میں بیٹھا ہوا اس کے متعلق سوچ رہا تھا میرا دل چاہا کہ اس کارخیر میں رو پید اپنے پاس سے لگا نا چاہیے تا کہ ہمیں ثواب ملتا رہے۔ مگر اس کے لیے بھی روپیہ کا سوال تھا مگر میں نے ارادہ کر لیا کہ کوشش کروں گا۔ اگر رو پیدل گیا تو ضرور اپنے پاس سے لگاؤں گا۔ میں اسی فکر میں بیٹا تھا اور اندازہ لگا رہا تھا کہ اس کام کے لیے ایک ہزار اور پندرہ سو کے درمیان روپیہ درکار ہوگا ۔ مگر اُس زمانہ میں ایک ہزار یا پندرہ سو ایسا ہی تھا