خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 408

$1948 408 خطبات محمود کیا ہے اور اس کا چندہ اتنا ہو چکا ہے کہ اس سے سب چندے ادا کر کے کچھ بچ جاتا ہے تو اس میں تحریک جدید کا وعدہ شامل ہوگا۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ واضح کر دیں اور لکھوادیں کہ اس چندہ میں میرا چندہ عام اتنا ہے، چندہ جلسہ سالانہ اتنا ہے، تحریک جدید کا چندہ اتنا ہے اور ان کے علاوہ اس میں فلاں فلاں چندہ شامل ہے! اور چونکہ میرا وعدہ عام چندہ سے بڑھ جاتا ہے اس لیے مجھے زیادہ چندہ دینے سے بری سمجھا جائے۔اگر کوئی ایسا کر دے گا تو ٹھیک ہوگا اور ہم تمام چندے اس رقم سے منہا کریں گے اور اگر وہ اس طرح نہیں کرتا تو تمام چندہ جو وہ بھیجتا ہے اس میں تحریک جدید کا چندہ شامل نہیں ہوگا۔تحریک کا وعدہ اسی طرح قائم رہے گا۔جب کوئی رقم صدر انجمن احمد یہ کے پاس آتی ہے تو اسے اپنے خزانہ میں داخل کر لیتی ہے اور جب تک کوئی ہدایت نہ آئے وہ اسے اپنا ہی حق سمجھتی ہے۔پھر بعض دفعہ اس سے دھو کا بھی لگ سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ صدرانجمن احمد یہ کہتی ہے کہ ابھی تو میرا ہی حق پورا نہیں ہوا یا کہتی ہے کہ ابھی تو میرا ہی چندہ پورا ہوا ہے اور تحریک وعدہ کنندوں کو یاد نہیں کرائے گی کہ شاید ان کا چندہ تحریک ستمبر میں آرہا ہے۔چنانچہ ایسے جھگڑے بعض دوستوں سے ہوئے بھی ہیں۔پس دوستوں کو واضح طور پر لکھ دینا چاہیے کہ اُن کا ماہوار چندہ جو واجب الادا تھاوہ اتنا بنتا ہے اور تحریک کا چندہ اس قدر ہے یا کوئی اور چندہ ہو تو وہ اس قدر ہے اور چونکہ تحریک ستمبر کے ماتحت جو چندے میں دیتا ہوں اُس سے میرے مقررہ اور موعودہ سب چندے پورے ہو جاتے ہیں اس لیے میں الگ چندہ نہیں لکھواؤں گا۔ہاں جو رقم مقررہ اور موعودہ چندوں سے بڑھ جائے اُسے تحریک ستمبر میں داخل کیا جائے۔میں اس امر پر افسوس کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ دوستوں نے تحریک ستمبر کی طرف پوری توجہ نہیں دی۔ایک سال میں تحریک ستمبر میں صرف سینتیس ہزار روپے چندہ جمع ہوا ہے حالانکہ اس عرصہ میں یہ چندہ پانچ سات لاکھ ہونا چاہیے تھا۔یا تو دوستوں نے اس تحریک میں بہت کم حصہ لیا ہے یا اگر حصہ لیا ہے تو انہوں نے بتایا نہیں کہ اس رقم میں اُن کا فلاں فلاں چندہ اس اس مقدار میں شامل ہے اور باقی جو بچے وہ تحریک ستمبر میں چلا جائے۔بہر حال تحریک کے کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے دور اول کے سپاہی جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ جلد از جلد وعدے لکھوائیں اور جیسا کہ ہمیشہ قاعدہ ہے میں اعلان کرتا ہوں کہ دس فروری ان وعدوں کی آخری میعاد ہے لیکن پسندیدہ یہی ہوگا کہ دسمبر کے خاتمہ سے پہلے پہلے وعدے آجائیں کیونکہ پھر