خطبات محمود (جلد 29) — Page 398
1948ء 398 خطبات محمود چاہیے۔ میرے پاس چندہ کی کاپی موجود ہے اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان صاحب کے ذمہ اتنے مہینوں کا چندہ بقایا ہے جو ابھی تک انہوں نے ادا نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ ہنس پڑے اور وہ اثر جو اُس کی تقریر سے ہوا تھا جاتا رہا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس کے بعد اُس شخص نے اپنی اصلاح کی طرف ضرور توجہ کی ہوگی ۔ پس اس رنگ میں بہت سی اصلاح کے مواقع نکل سکتے ہیں۔ جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس بارہ میں دلچسپی لیں اور اپنی بیماری پر غور کریں۔ جب وہ اپنی بیماری پر غور کریں گے تو خود بخود انہیں علاج کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی اور جب انہیں دوسروں کی بیماری کا احساس پیدا ہو گا تو اس کے نتیجہ میں اُنہیں اپنی بیماری کا بھی احساس پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ پہلے وہ کہیں گے زید میں یہ نقص ہے، بکر میں یہ نقص ہے، عمرو خالد میں یہ نقص ہے مگر زید اور بکر اور عمر اور خالد بھی اپنے منہ میں زبان رکھتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے تجھے دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو دکھائی دیا مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ اگر تجھے اصلاح کا احساس ہے تو اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دیکھ۔ اس طرح سب لوگوں کے اندر بیداری پیدا ہو جائے گی اور ہر شخص اپنے نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ بہر حال اب کچھ نہ کچھ کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ دراصل ہماری خاموشی ہی ہماری بیماری ہے ورنہ در حقیقت ہمارے اندر ذاتی طور پر کوئی بیماری نہیں کیونکہ خدائی تقدیر یہی ہے کہ ہماری جماعت آگے بڑھے اور دنیا پر تقدیریں میں ترقی کرے۔ اس تقدیر کے مطابق جو شخص کام کرے گا اُس کے ضرور اعلیٰ نتائج پیدا ہوں گے۔ اور جو شخص اس تقدیر کے خلاف اٹھے گا وہ اپنے مقصد کو کبھی بھی حاصل نہیں کر سکے گا"۔ الفضل حیکم مارچ 1949ء) 1 : تذکرہ صفحہ 402 ایڈیشن چہارم میں الفاظ بدیں طور ہیں ”لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ 2 : نكو : رسوا، بد نام، برا ( اردو لغت تاریخی اصول پر ، جلد 20 صفحہ 337، اردو لغت بورڈ کراچی ) 3 : مشایعت: رخصت کرنے کے لیے چند قدم ساتھ جانا۔